ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
Poetry Collection
Bechaini
Impatience is a state of our being that does not allow us to live at peace. It could be caused by a variety of reasons. Poets have often talked of impatient lovers and produced poetry that annotates love-life with great sensitivity. We have a selection of verses here on this condition of our lives.
Total
27
Sher
20
Ghazal
7
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں
ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا
نہ کر سوداؔ تو شکوہ ہم سے دل کی بے قراری کا محبت کس کو دیتی ہے میاں آرام دنیا میں
تجھ کو پا کر بھی نہ کم ہو سکی بے تابئ دل اتنا آسان ترے عشق کا غم تھا ہی نہیں
روئے بغیر چارہ نہ رونے کی تاب ہے کیا چیز اف یہ کیفیت اضطراب ہے
دل کو خدا کی یاد تلے بھی دبا چکا کم بخت پھر بھی چین نہ پائے تو کیا کروں
عشق میں بے تابیاں ہوتی ہیں لیکن اے حسنؔ جس قدر بے چین تم ہو اس قدر کوئی نہ ہو
کسی پہلو نہیں چین آتا ہے عشاق کو تیرے تڑپتے ہیں فغاں کرتے ہیں اور کروٹ بدلتے ہیں
بتائیں کیا کہ بے چینی بڑھاتے ہیں وہی آ کر بہت بے چین ہم جن کے لیے معلوم ہوتے ہیں
انہیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا محبت نہ کرتے تمہیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے
برق و سیماب کا آغاؔ نہ رہے نام و نشاں دل کی بیتابی سے اک بار جو مضطر میں ہوں
میرے دل نے دیکھا ہے یوں بھی ان کو الجھن میں بار بار کمرے میں بار بار آنگن میں
ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں
ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا
نہ کر سوداؔ تو شکوہ ہم سے دل کی بے قراری کا محبت کس کو دیتی ہے میاں آرام دنیا میں
تجھ کو پا کر بھی نہ کم ہو سکی بے تابئ دل اتنا آسان ترے عشق کا غم تھا ہی نہیں
روئے بغیر چارہ نہ رونے کی تاب ہے کیا چیز اف یہ کیفیت اضطراب ہے
دل کو خدا کی یاد تلے بھی دبا چکا کم بخت پھر بھی چین نہ پائے تو کیا کروں
عشق میں بے تابیاں ہوتی ہیں لیکن اے حسنؔ جس قدر بے چین تم ہو اس قدر کوئی نہ ہو
کسی پہلو نہیں چین آتا ہے عشاق کو تیرے تڑپتے ہیں فغاں کرتے ہیں اور کروٹ بدلتے ہیں
میرے دل نے دیکھا ہے یوں بھی ان کو الجھن میں بار بار کمرے میں بار بار آنگن میں
بتائیں کیا کہ بے چینی بڑھاتے ہیں وہی آ کر بہت بے چین ہم جن کے لیے معلوم ہوتے ہیں
تربت میں بھی نہ سونے دیا چین سے مجھے سایہ مری زمین پہ کس آسماں کا تھا
برق و سیماب کا آغاؔ نہ رہے نام و نشاں دل کی بیتابی سے اک بار جو مضطر میں ہوں
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Bechaini FAQs
Bechaini collection me kya milega?
Bechaini se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.