ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
Poetry Collection
Beqarari
Restlessness is an unwelcome state of existence. In life, there may be many reasons for restlessness but in poetry it is usually the love that makes the two—the lover and the beloved—restless for each other. Interestingly, restlessness can also be a uniquely enjoyable state for the lover to be in. Here are a few samples on this theme.
Total
33
Sher
27
Ghazal
6
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں
نہ کر سوداؔ تو شکوہ ہم سے دل کی بے قراری کا محبت کس کو دیتی ہے میاں آرام دنیا میں
تجھ کو پا کر بھی نہ کم ہو سکی بے تابئ دل اتنا آسان ترے عشق کا غم تھا ہی نہیں
سنا ہے تیری محفل میں سکون دل بھی ملتا ہے مگر ہم جب تری محفل سے آئے بے قرار آئے
سمجھا لیا فریب سے مجھ کو تو آپ نے دل سے تو پوچھ لیجیے کیوں بے قرار ہے
درد الفت کا نہ ہو تو زندگی کا کیا مزا آہ و زاری زندگی ہے بے قراری زندگی
دل کو خدا کی یاد تلے بھی دبا چکا کم بخت پھر بھی چین نہ پائے تو کیا کروں
نہیں علاج غم ہجر یار کیا کیجے تڑپ رہا ہے دل بے قرار کیا کیجے
ہر ایک سانس مجھے کھینچتی ہے اس کی طرف یہ کون میرے لیے بے قرار رہتا ہے
تڑپ تڑپ کے تمنا میں کروٹیں بدلیں نہ پایا دل نے ہمارے قرار ساری رات
کسی طرح تو گھٹے دل کی بے قراری بھی چلو وہ چشم نہیں کم سے کم شراب تو ہو
شب فراق کچھ ایسا خیال یار رہا کہ رات بھر دل غم دیدہ بے قرار رہا
دل کو اس طرح دیکھنے والے دل اگر بے قرار ہو جائے
بے قراری تھی سب امید ملاقات کے ساتھ اب وہ اگلی سی درازی شب ہجراں میں نہیں
جلا ہے پردۂ شب میں ہجوم پروانہ برہنہ شمع مگر بے قرار ہے اب تک
تمہارے عاشقوں میں بے قراری کیا ہی پھیلی ہے جدھر دیکھو جگر تھامے ہوئے دو چار بیٹھے ہیں
رات جاتی ہے مان لو کہنا دیر سے دل ہے بے قرار اپنا
ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں
نہ کر سوداؔ تو شکوہ ہم سے دل کی بے قراری کا محبت کس کو دیتی ہے میاں آرام دنیا میں
تجھ کو پا کر بھی نہ کم ہو سکی بے تابئ دل اتنا آسان ترے عشق کا غم تھا ہی نہیں
سنا ہے تیری محفل میں سکون دل بھی ملتا ہے مگر ہم جب تری محفل سے آئے بے قرار آئے
سمجھا لیا فریب سے مجھ کو تو آپ نے دل سے تو پوچھ لیجیے کیوں بے قرار ہے
درد الفت کا نہ ہو تو زندگی کا کیا مزا آہ و زاری زندگی ہے بے قراری زندگی
دل کو خدا کی یاد تلے بھی دبا چکا کم بخت پھر بھی چین نہ پائے تو کیا کروں
نہیں علاج غم ہجر یار کیا کیجے تڑپ رہا ہے دل بے قرار کیا کیجے
دل پیار کی نظر کے لیے بے قرار ہے اک تیر اس طرف بھی یہ تازہ شکار ہے
قول آبروؔ کا تھا کہ نہ جاؤں گا اس گلی ہو کر کے بے قرار دیکھو آج پھر گیا
تڑپ تڑپ کے تمنا میں کروٹیں بدلیں نہ پایا دل نے ہمارے قرار ساری رات
تمہارے عاشقوں میں بے قراری کیا ہی پھیلی ہے جدھر دیکھو جگر تھامے ہوئے دو چار بیٹھے ہیں
جو بھی ہے دل میں آپ کے کھل کر بتائیے ہمیں کہتے ہیں آپ ٹھیک ہیں رہتے ہیں بے قرار سے
دل کو اس طرح دیکھنے والے دل اگر بے قرار ہو جائے
جانے دے صبر و قرار و ہوش کو تو کہاں اے بے قراری جائے گی
بے قراری تھی سب امید ملاقات کے ساتھ اب وہ اگلی سی درازی شب ہجراں میں نہیں
جلا ہے پردۂ شب میں ہجوم پروانہ برہنہ شمع مگر بے قرار ہے اب تک
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Beqarari FAQs
Beqarari collection me kya milega?
Beqarari se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.