وفا جس سے کی بے وفا ہو گیا جسے بت بنایا خدا ہو گیا
Poetry Collection
But
But, or statue, is more a metaphor and symbol than merely an image. Poetry of love and romance in Urdu draws upon the idea and image of butt quite frequently. The beloved as a butt can be silent, unconcerned, and uncaring for the lover who adores her beauty and yearns for her response. Here is a selection of verses on this theme for you to read and enjoy.
Total
28
Sher
28
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا
کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز
دو ہی دن میں یہ صنم ہوش ربا ہوتے ہیں کل کے ترشے ہوئے بت آج خدا ہوتے ہیں
ہو گئے نام بتاں سنتے ہی مومنؔ بے قرار ہم نہ کہتے تھے کہ حضرت پارسا کہنے کو ہیں
بے خودی میں ہم تو تیرا در سمجھ کر جھک گئے اب خدا معلوم کعبہ تھا کہ وہ بت خانہ تھا
نہیں یہ آدمی کا کام واعظ ہمارے بت تراشے ہیں خدا نے
آپ کرتے جو احترام بتاں بتکدے خود خدا خدا کرتے
طعنہ زن کفر پہ ہوتا ہے عبث اے زاہد بت پرستی ہے ترے زہد ریا سے بہتر
بت کو پوجوں گا صنم خانوں میں جا جا کے تو میں اس کے پیچھے مرا ایمان رہے یا نہ رہے
کیا عشق مجازی نے حقیقت آشنا مجھ کو بتوں نے ظلم وہ ڈھایا کہ یاد آیا خدا مجھ کو
اصغرؔ یہ سفر شوق کا اب کیسے کٹے گا جو ہم نے تراشا تھا وہ بت ٹوٹ گیا ہے
جو کہ سجدہ نہ کرے بت کو مرے مشرب میں عاقبت اس کی کسی طور سے محمود نہیں
شکوہ اس بت کے جفا کا جو کیا میں تو کہا تم تو دنیا میں ہو اک اہل وفا تم کو کیا
کبھی جس پر عقیدہ تھا ہمارا وہ بت مسمار ہوتا جا رہا ہے
بڑھے گی بات نہ بیٹھیں گے چپکے ہم اے بت رقیب سے جو کرو گے کلام اٹھ اٹھ کر
چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کا پوجنا چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر
بت نظر آئیں گے معشوقوں کی کثرت ہوگی آج بت خانہ میں اللہ کی قدرت ہوگی
ٹھہری جو وصل کی تو ہوئی صبح شام سے بت مہرباں ہوئے تو خدا مہرباں نہ تھا
وفا جس سے کی بے وفا ہو گیا جسے بت بنایا خدا ہو گیا
ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا
کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز
چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کا پوجنا چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر
الٰہی ایک دل کس کس کو دوں میں ہزاروں بت ہیں یاں ہندوستان ہے
ہو گئے نام بتاں سنتے ہی مومنؔ بے قرار ہم نہ کہتے تھے کہ حضرت پارسا کہنے کو ہیں
صنم پرستی کروں ترک کیوں کر اے واعظ بتوں کا ذکر خدا کی کتاب میں دیکھا
نہیں یہ آدمی کا کام واعظ ہمارے بت تراشے ہیں خدا نے
بتوں کو توڑ کے ایسا خدا بنانا کیا بتوں کی طرح جو ہم شکل آدمی کا ہو
بت نظر آئیں گے معشوقوں کی کثرت ہوگی آج بت خانہ میں اللہ کی قدرت ہوگی
ٹھہری جو وصل کی تو ہوئی صبح شام سے بت مہرباں ہوئے تو خدا مہرباں نہ تھا
طعنہ زن کفر پہ ہوتا ہے عبث اے زاہد بت پرستی ہے ترے زہد ریا سے بہتر
اپنی مرضی تو یہ ہے بندۂ بت ہو رہیے آگے مرضی ہے خدا کی سو خدا ہی جانے
کیا عشق مجازی نے حقیقت آشنا مجھ کو بتوں نے ظلم وہ ڈھایا کہ یاد آیا خدا مجھ کو
پتھر کو بساؤں گا نہیں اس میں کبھی میں دل میرا حرم ہے کوئی بت خانہ نہیں ہے
جو کہ سجدہ نہ کرے بت کو مرے مشرب میں عاقبت اس کی کسی طور سے محمود نہیں
تھے میری راہ میں لاکھوں بتان نخوت و ناز کہیں بھی سر نہ جھکا تیرے نقش پا کے سوا
کبھی جس پر عقیدہ تھا ہمارا وہ بت مسمار ہوتا جا رہا ہے
اپنا شہکار ابھی اے مرے بت گر نہ بنا دل دھڑکتا ہے مرا تو مجھے پتھر نہ بنا
You have reached the end.
Explore Similar Collections
But FAQs
But collection me kya milega?
But se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.