Top 20 Sher Series

Shayari of Arzoo Lakhnavi

Shayari of Arzoo Lakhnavi ek clean reading flow me, writer aur full-detail links ke saath.

Total

20

Sher

20

Featured Picks

Series se pehle kuch standout sher padhein.

کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی جھوم کے آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی

وفا تم سے کریں گے دکھ سہیں گے ناز اٹھائیں گے جسے آتا ہے دل دینا اسے ہر کام آتا ہے

جو دل رکھتے ہیں سینے میں وہ کافر ہو نہیں سکتے محبت دین ہوتی ہے وفا ایمان ہوتی ہے

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو جس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو

حد سے ٹکراتی ہے جو شے وہ پلٹتی ہے ضرور خود بھی روئیں گے غریبوں کو رلانے والے

شوق چڑھتی دھوپ جاتا وقت گھٹتی چھاؤں ہے با وفا جو آج ہیں کل بے وفا ہو جائیں گے

کھلنا کہیں چھپا بھی ہے چاہت کے پھول کا لی گھر میں سانس اور گلی تک مہک گئی

ہاتھ سے کس نے ساغر پٹکا موسم کی بے کیفی پر اتنا برسا ٹوٹ کے بادل ڈوب چلا مے خانہ بھی

تیرے تو ڈھنگ ہیں یہی اپنا بنا کے چھوڑ دے وہ بھی برا ہے باؤلا تجھ کو جو پا کے چھوڑ دے

جس قدر نفرت بڑھائی اتنی ہی قربت بڑھی اب جو محفل میں نہیں ہے وہ تمہارے دل میں ہے

جو کچھ تھا نہ کہنے کا سب کہہ گیا دیوانہ سمجھو تو مکمل ہے اب عشق کا افسانہ

خزاں کا بھیس بنا کر بہار نے مارا مجھے دورنگئ لیل و نہار نے مارا

وائے غربت کہ ہوئے جس کے لئے خانہ خراب سن کے آواز بھی گھر سے نہ وہ باہر نکلا

ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہ کس درجہ دکھے دل کا رنگین ہے افسانہ

کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی جھوم کے آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی

وفا تم سے کریں گے دکھ سہیں گے ناز اٹھائیں گے جسے آتا ہے دل دینا اسے ہر کام آتا ہے

جو دل رکھتے ہیں سینے میں وہ کافر ہو نہیں سکتے محبت دین ہوتی ہے وفا ایمان ہوتی ہے

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو جس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو

حد سے ٹکراتی ہے جو شے وہ پلٹتی ہے ضرور خود بھی روئیں گے غریبوں کو رلانے والے

شوق چڑھتی دھوپ جاتا وقت گھٹتی چھاؤں ہے با وفا جو آج ہیں کل بے وفا ہو جائیں گے

کھلنا کہیں چھپا بھی ہے چاہت کے پھول کا لی گھر میں سانس اور گلی تک مہک گئی

ہاتھ سے کس نے ساغر پٹکا موسم کی بے کیفی پر اتنا برسا ٹوٹ کے بادل ڈوب چلا مے خانہ بھی

تیرے تو ڈھنگ ہیں یہی اپنا بنا کے چھوڑ دے وہ بھی برا ہے باؤلا تجھ کو جو پا کے چھوڑ دے

جس قدر نفرت بڑھائی اتنی ہی قربت بڑھی اب جو محفل میں نہیں ہے وہ تمہارے دل میں ہے

جو کچھ تھا نہ کہنے کا سب کہہ گیا دیوانہ سمجھو تو مکمل ہے اب عشق کا افسانہ

خزاں کا بھیس بنا کر بہار نے مارا مجھے دورنگئ لیل و نہار نے مارا

وائے غربت کہ ہوئے جس کے لئے خانہ خراب سن کے آواز بھی گھر سے نہ وہ باہر نکلا

ہر سانس ہے اک نغمہ ہر نغمہ ہے مستانہ کس درجہ دکھے دل کا رنگین ہے افسانہ

You have reached the end.

Explore Similar Collections

Shayari of Arzoo Lakhnavi FAQs

Arzoo Lakhnavi Top 20 me kya milega?

Arzoo Lakhnavi ke selected sher readable cards, internal detail links, aur writer discovery ke saath milenge.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.