Top 20 Sher Series

Shayari of Bekhud Dehlvi

Shayari of Bekhud Dehlvi ek clean reading flow me, writer aur full-detail links ke saath.

Total

20

Sher

20

Featured Picks

Series se pehle kuch standout sher padhein.

ادائیں دیکھنے بیٹھے ہو کیا آئینہ میں اپنی دیا ہے جس نے تم جیسے کو دل اس کا جگر دیکھو

بات وہ کہئے کہ جس بات کے سو پہلو ہوں کوئی پہلو تو رہے بات بدلنے کے لیے

شعر میں جو نکتہ بیان کیا گیا ہے اسی نے اسے دل چسپ بنایا ہے۔ اس میں لفظ بات کی اگرچہ تین دفعہ اور پہلو کی دو دفعہ تکرار ہوئی ہے مگر لفظوں کی ترنم ریزی اور بیان کی روانی کے وصف نے شعر میں لطف پیدا کیا ہے۔ پہلو کی مناسبت سے لفظ بدلنے نے شعر کی کیفیت کو تاثر بخشا ہے۔ دراصل شعر میں جو نکتہ بیان کیا گیا ہے، وہ اگرچہ کسی تخصیص کا حامل نہیں بلکہ عام فہم ہے مگر جس انداز سے شاعر نے اس نکتے کوبیان کیا ہے وہ اس نکتے کو عام فہم ہونے کے باوجود نادر بنادیتا ہے۔ ٍشعر کا مفہوم یہ ہے کہ بات کو کچھ ایسے رمزیہ انداز میں کہنا چاہیے کہ اس سے سو طرح کے مفہوم بر آمد ہوں۔کیونکہ معنی کے اعتبار سے اکہری بات کہنا دانا لوگوں کا شیوہ نہیں بلکہ وہ سو نکتوں کا نچوڑ ایک بات میں بیان کرتے ہیں۔ اس طرح سے سننے والوں کو بحث کرنے یا وضاحت طلب کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی پہلو ہاتھ آجاتا ہے۔ اور جب بات کے پہلو کثیر ہوں تو بات بدلنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ یعنی نکتے سے نکتہ برآمد ہوتا ہے۔ شفق سوپوری

سن کے ساری داستان رنج و غم کہہ دیا اس نے کہ پھر ہم کیا کریں

راہ میں بیٹھا ہوں میں تم سنگ رہ سمجھو مجھے آدمی بن جاؤں گا کچھ ٹھوکریں کھانے کے بعد

مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند دونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسند

ہمیں پینے سے مطلب ہے جگہ کی قید کیا بیخودؔ اسی کا نام جنت رکھ دیا بوتل جہاں رکھ دی

وہ کچھ مسکرانا وہ کچھ جھینپ جانا جوانی ادائیں سکھاتی ہیں کیا کیا

چشم بد دور وہ بھولے بھی ہیں ناداں بھی ہیں ظلم بھی مجھ پہ کبھی سوچ سمجھ کر نہ ہوا

حوروں سے نہ ہوگی یہ مدارات کسی کی یاد آئے گی جنت میں ملاقات کسی کی

منہ میں واعظ کے بھی بھر آتا ہے پانی اکثر جب کبھی تذکرۂ جام شراب آتا ہے

تم کو آشفتہ مزاجوں کی خبر سے کیا کام تم سنوارا کرو بیٹھے ہوئے گیسو اپنے

جھوٹا جو کہا میں نے تو شرما کے وہ بولے اللہ بگاڑے نہ بنی بات کسی کی

چلنے کی نہیں آج کوئی گھات کسی کی سننے کے نہیں وصل میں ہم بات کسی کی

ادائیں دیکھنے بیٹھے ہو کیا آئینہ میں اپنی دیا ہے جس نے تم جیسے کو دل اس کا جگر دیکھو

بات وہ کہئے کہ جس بات کے سو پہلو ہوں کوئی پہلو تو رہے بات بدلنے کے لیے

شعر میں جو نکتہ بیان کیا گیا ہے اسی نے اسے دل چسپ بنایا ہے۔ اس میں لفظ بات کی اگرچہ تین دفعہ اور پہلو کی دو دفعہ تکرار ہوئی ہے مگر لفظوں کی ترنم ریزی اور بیان کی روانی کے وصف نے شعر میں لطف پیدا کیا ہے۔ پہلو کی مناسبت سے لفظ بدلنے نے شعر کی کیفیت کو تاثر بخشا ہے۔ دراصل شعر میں جو نکتہ بیان کیا گیا ہے، وہ اگرچہ کسی تخصیص کا حامل نہیں بلکہ عام فہم ہے مگر جس انداز سے شاعر نے اس نکتے کوبیان کیا ہے وہ اس نکتے کو عام فہم ہونے کے باوجود نادر بنادیتا ہے۔ ٍشعر کا مفہوم یہ ہے کہ بات کو کچھ ایسے رمزیہ انداز میں کہنا چاہیے کہ اس سے سو طرح کے مفہوم بر آمد ہوں۔کیونکہ معنی کے اعتبار سے اکہری بات کہنا دانا لوگوں کا شیوہ نہیں بلکہ وہ سو نکتوں کا نچوڑ ایک بات میں بیان کرتے ہیں۔ اس طرح سے سننے والوں کو بحث کرنے یا وضاحت طلب کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی پہلو ہاتھ آجاتا ہے۔ اور جب بات کے پہلو کثیر ہوں تو بات بدلنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ یعنی نکتے سے نکتہ برآمد ہوتا ہے۔ شفق سوپوری

سن کے ساری داستان رنج و غم کہہ دیا اس نے کہ پھر ہم کیا کریں

راہ میں بیٹھا ہوں میں تم سنگ رہ سمجھو مجھے آدمی بن جاؤں گا کچھ ٹھوکریں کھانے کے بعد

مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند دونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسند

ہمیں پینے سے مطلب ہے جگہ کی قید کیا بیخودؔ اسی کا نام جنت رکھ دیا بوتل جہاں رکھ دی

وہ کچھ مسکرانا وہ کچھ جھینپ جانا جوانی ادائیں سکھاتی ہیں کیا کیا

چشم بد دور وہ بھولے بھی ہیں ناداں بھی ہیں ظلم بھی مجھ پہ کبھی سوچ سمجھ کر نہ ہوا

حوروں سے نہ ہوگی یہ مدارات کسی کی یاد آئے گی جنت میں ملاقات کسی کی

منہ میں واعظ کے بھی بھر آتا ہے پانی اکثر جب کبھی تذکرۂ جام شراب آتا ہے

تم کو آشفتہ مزاجوں کی خبر سے کیا کام تم سنوارا کرو بیٹھے ہوئے گیسو اپنے

جھوٹا جو کہا میں نے تو شرما کے وہ بولے اللہ بگاڑے نہ بنی بات کسی کی

چلنے کی نہیں آج کوئی گھات کسی کی سننے کے نہیں وصل میں ہم بات کسی کی

You have reached the end.

Explore Similar Collections

Shayari of Bekhud Dehlvi FAQs

Bekhud Dehlvi Top 20 me kya milega?

Bekhud Dehlvi ke selected sher readable cards, internal detail links, aur writer discovery ke saath milenge.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.