Poetry Collection

Deedar

Looking at the beloved is a dear desire fulfilled. It creates feelings that cannot be easily summed up except by the poets. Here are some shers that help you feel the pleasure of seeing, especially the beloved.

Total

50

Sher

41

Ghazal

9

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

دیکھنے کے لیے سارا عالم بھی کم چاہنے کے لیے ایک چہرا بہت

کچھ نظر آتا نہیں اس کے تصور کے سوا حسرت دیدار نے آنکھوں کو اندھا کر دیا

اب وہی کرنے لگے دیدار سے آگے کی بات جو کبھی کہتے تھے بس دیدار ہونا چاہئے

تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں

کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی ہم کو اگر میسر جاناں کی دید ہوتی

جناب کے رخ روشن کی دید ہو جاتی تو ہم سیاہ نصیبوں کی عید ہو جاتی

تم اپنے چاند تارے کہکشاں چاہے جسے دینا مری آنکھوں پہ اپنی دید کی اک شام لکھ دینا

دیدار کی طلب کے طریقوں سے بے خبر دیدار کی طلب ہے تو پہلے نگاہ مانگ

ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں تمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں

کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر

آپ ادھر آئے ادھر دین اور ایمان گئے عید کا چاند نظر آیا تو رمضان گئے

ترا دیدار ہو حسرت بہت ہے چلو کہ نیند بھی آنے لگی ہے

مرا جی تو آنکھوں میں آیا یہ سنتے کہ دیدار بھی ایک دن عام ہوگا

اس کو دیکھا تو یہ محسوس ہوا ہم بہت دور تھے خود سے پہلے

اٹھ اے نقاب یار کہ بیٹھے ہیں دیر سے کتنے غریب دیدۂ پر نم لیے ہوئے

دردؔ کے ملنے سے اے یار برا کیوں مانا اس کو کچھ اور سوا دید کے منظور نہ تھا

وہ دشمنی سے دیکھتے ہیں دیکھتے تو ہیں میں شاد ہوں کہ ہوں تو کسی کی نگاہ میں

دیکھنے کے لیے سارا عالم بھی کم چاہنے کے لیے ایک چہرا بہت

کچھ نظر آتا نہیں اس کے تصور کے سوا حسرت دیدار نے آنکھوں کو اندھا کر دیا

اب وہی کرنے لگے دیدار سے آگے کی بات جو کبھی کہتے تھے بس دیدار ہونا چاہئے

تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں

کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی ہم کو اگر میسر جاناں کی دید ہوتی

جناب کے رخ روشن کی دید ہو جاتی تو ہم سیاہ نصیبوں کی عید ہو جاتی

تم اپنے چاند تارے کہکشاں چاہے جسے دینا مری آنکھوں پہ اپنی دید کی اک شام لکھ دینا

دیدار کی طلب کے طریقوں سے بے خبر دیدار کی طلب ہے تو پہلے نگاہ مانگ

ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں تمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں

کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر

وہ دشمنی سے دیکھتے ہیں دیکھتے تو ہیں میں شاد ہوں کہ ہوں تو کسی کی نگاہ میں

جو اور کچھ ہو تری دید کے سوا منظور تو مجھ پہ خواہش جنت حرام ہو جائے

ترا دیدار ہو حسرت بہت ہے چلو کہ نیند بھی آنے لگی ہے

اٹھ اے نقاب یار کہ بیٹھے ہیں دیر سے کتنے غریب دیدۂ پر نم لیے ہوئے

دردؔ کے ملنے سے اے یار برا کیوں مانا اس کو کچھ اور سوا دید کے منظور نہ تھا

Explore Similar Collections

Deedar FAQs

Deedar collection me kya milega?

Deedar se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.