Poetry Collection

Dosti

Friendship is a pure and pious human experience. It helps human beings to know, and to live in good spirit with each other. The idea and experience of friendship has been treated variously by poets. Their verses have opened up many dimensions of this pious human relationship. Sometimes, friendship also turns into enmity but we do not always understand, or even know how such positive sentiments turn into negative ones. These verses would bring you a variety of perspectives on friendship and help you appreciate the multiple meanings of this relationship.

Total

55

Sher

50

Ghazal

5

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا جونؔ یاروں کے یار تھے ہم تو

دوستی جب کسی سے کی جائے دشمنوں کی بھی رائے لی جائے

اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھر چلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لیے

میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے میں ہوں درد عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دعا نہ دے

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے

پتھر تو ہزاروں نے مارے تھے مجھے لیکن جو دل پہ لگا آ کر اک دوست نے مارا ہے

دوستی خواب ہے اور خواب کی تعبیر بھی ہے رشتۂ عشق بھی ہے یاد کی زنجیر بھی ہے

خدا کے واسطے موقع نہ دے شکایت کا کہ دوستی کی طرح دشمنی نبھایا کر

سنا ہے ایسے بھی ہوتے ہیں لوگ دنیا میں کہ جن سے ملیے تو تنہائی ختم ہوتی ہے

~ Mohammad Iftikhar Shafi

توڑ کر آج غلط فہمی کی دیواروں کو دوستو اپنے تعلق کو سنوارا جائے

دوستی کو برا سمجھتے ہیں کیا سمجھ ہے وہ کیا سمجھتے ہیں

بھول شاید بہت بڑی کر لی دل نے دنیا سے دوستی کر لی

مجھے دوست کہنے والے ذرا دوستی نبھا دے یہ مطالبہ ہے حق کا کوئی التجا نہیں ہے

میں اب ہر شخص سے اکتا چکا ہوں فقط کچھ دوست ہیں اور دوست بھی کیا

دوست دو چار نکلتے ہیں کہیں لاکھوں میں جتنے ہوتے ہیں سوا اتنے ہی کم ہوتے ہیں

فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا جونؔ یاروں کے یار تھے ہم تو

دوستی جب کسی سے کی جائے دشمنوں کی بھی رائے لی جائے

اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھر چلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لیے

میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے میں ہوں درد عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دعا نہ دے

بھول شاید بہت بڑی کر لی دل نے دنیا سے دوستی کر لی

مجھے دوست کہنے والے ذرا دوستی نبھا دے یہ مطالبہ ہے حق کا کوئی التجا نہیں ہے

پتھر تو ہزاروں نے مارے تھے مجھے لیکن جو دل پہ لگا آ کر اک دوست نے مارا ہے

لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں

عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے دل یہ کہتا ہے فریب دوست کھاتے جائیے

~ Mahirul Qadri

دوستی خواب ہے اور خواب کی تعبیر بھی ہے رشتۂ عشق بھی ہے یاد کی زنجیر بھی ہے

خدا کے واسطے موقع نہ دے شکایت کا کہ دوستی کی طرح دشمنی نبھایا کر

دوست دو چار نکلتے ہیں کہیں لاکھوں میں جتنے ہوتے ہیں سوا اتنے ہی کم ہوتے ہیں

میں حیراں ہوں کہ کیوں اس سے ہوئی تھی دوستی اپنی مجھے کیسے گوارہ ہو گئی تھی دشمنی اپنی

توڑ کر آج غلط فہمی کی دیواروں کو دوستو اپنے تعلق کو سنوارا جائے

فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا

Explore Similar Collections

Dosti FAQs

Dosti collection me kya milega?

Dosti se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.