دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
Poetry Collection
Dushmani
Like friendship, enmity too is a basic human attitude. This is a negative attitude but it may also turn into something positive and become a source of striking a friendship. Poets have explored this state of human emotion in multiple ways. The most interesting aspect of this emotion may be seen in the relationship between the lovers who play hide and seek and emerge with better feelings and reconcile to live in harmony.
Total
26
Sher
24
Ghazal
2
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئے
کرے ہے عداوت بھی وہ اس ادا سے لگے ہے کہ جیسے محبت کرے ہے
کسے خبر وہ محبت تھی یا رقابت تھی بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے
جو دوست ہیں وہ مانگتے ہیں صلح کی دعا دشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپس میں جنگ ہو
عمر بھر ملنے نہیں دیتی ہیں اب تو رنجشیں وقت ہم سے روٹھ جانے کی ادا تک لے گیا
دشمنی نے سنا نہ ہووے گا جو ہمیں دوستی نے دکھلایا
یہ بھی اک بات ہے عداوت کی روزہ رکھا جو ہم نے دعوت کی
تعلق ہے نہ اب ترک تعلق خدا جانے یہ کیسی دشمنی ہے
اپنے بیگانے سے اب مجھ کو شکایت نہ رہی دشمنی کر کے مرے دوست نے مارا مجھ کو
وفا پر دغا صلح میں دشمنی ہے بھلائی کا ہرگز زمانہ نہیں ہے
تم صف دوستاں میں ہو لیکن پھر بھی کار عدو کرو گے تم
دشمنی کا سفر اک قدم دو قدم تم بھی تھک جاؤ گے ہم بھی تھک جائیں گے
لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں
اے دوست تجھ کو رحم نہ آئے تو کیا کروں دشمن بھی میرے حال پہ اب آب دیدہ ہے
آ گیا جوہرؔ عجب الٹا زمانہ کیا کہیں دوست وہ کرتے ہیں باتیں جو عدو کرتے نہیں
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئے
دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے
لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں
کرے ہے عداوت بھی وہ اس ادا سے لگے ہے کہ جیسے محبت کرے ہے
کسے خبر وہ محبت تھی یا رقابت تھی بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے
جو دوست ہیں وہ مانگتے ہیں صلح کی دعا دشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپس میں جنگ ہو
اے دوست تجھ کو رحم نہ آئے تو کیا کروں دشمن بھی میرے حال پہ اب آب دیدہ ہے
میں حیراں ہوں کہ کیوں اس سے ہوئی تھی دوستی اپنی مجھے کیسے گوارہ ہو گئی تھی دشمنی اپنی
دشمنی نے سنا نہ ہووے گا جو ہمیں دوستی نے دکھلایا
نگاہ ناز کی پہلی سی برہمی بھی گئی میں دوستی کو ہی روتا تھا دشمنی بھی گئی
تعلق ہے نہ اب ترک تعلق خدا جانے یہ کیسی دشمنی ہے
آ گیا جوہرؔ عجب الٹا زمانہ کیا کہیں دوست وہ کرتے ہیں باتیں جو عدو کرتے نہیں
مجھے جو دوستی ہے اس کو دشمنی مجھ سے نہ اختیار ہے اس کا نہ میرا چارا ہے
میں محبت نہ چھپاؤں تو عداوت نہ چھپا نہ یہی راز میں اب ہے نہ وہی راز میں ہے
تم صف دوستاں میں ہو لیکن پھر بھی کار عدو کرو گے تم
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Dushmani FAQs
Dushmani collection me kya milega?
Dushmani se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.