اپنی حالت کا خود احساس نہیں ہے مجھ کو میں نے اوروں سے سنا ہے کہ پریشان ہوں میں
Poetry Collection
Ehsaas
Feelings have many hues. However, representing them in words is a delicate affair but the poets have done it in ways that are remarkable both for the way they are conceived as well as expressed. Some examples in this selection would bear this out only too well.
Total
48
Sher
28
Ghazal
20
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
خدا ایسے احساس کا نام ہے رہے سامنے اور دکھائی نہ دے
آگہی کرب وفا صبر تمنا احساس میرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ خنجر سارے
مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے
میں اس کے سامنے سے گزرتا ہوں اس لیے ترک تعلقات کا احساس مر نہ جائے
کیسی بپتا پال رکھی ہے قربت کی اور دوری کی خوشبو مار رہی ہے مجھ کو اپنی ہی کستوری کی
ریزہ ریزہ کر دیا جس نے مرے احساس کو کس قدر حیران ہے وہ مجھ کو یکجا دیکھ کر
مجھ کو احساس رنگ و بو نہ ہوا یوں بھی اکثر بہار آئی ہے
اوروں کی آگ کیا تجھے کندن بنائے گی اپنی بھی آگ میں کبھی چپ چاپ جل کے دیکھ
ہمیں کم بخت احساس خودی اس در پہ لے بیٹھا ہم اٹھ جاتے تو وہ پردہ بھی اٹھ جاتا جو حائل تھا
غم سے احساس کا آئینہ جلا پاتا ہے اور غم سیکھے ہے آ کر یہ سلیقہ مجھ سے
یہ بھی کیا کم ہے بصیرت کی نظر حاصل ہوئی دوستوں نے کی جو تجھ سے دشمنی ماتم نہ کر
نظر ملی بھی نہ تھی اور ان کو دیکھ لیا زباں کھلی بھی نہ تھی اور بات بھی کر لی
یوں محسوس ہوا اپنی گہرائی میں جا کر جیسے کوئی موج کنارے پر لے آئی
ہم جیسوں کو بس اتنی اجازت ہے مرے دوست ہم دیکھ ہی سکتے ہیں پسند آیا ہوا شخص
علمبردار تنہائی تھا اپنا فرحتؔ احساس ہجوم شہر کے ہاتھوں جو مارا جا رہا ہے
مرے اندر کئی احساس پتھر ہو رہے ہیں یہ شیرازہ بکھرنا اب ضروری ہو گیا ہے
آج وہ کچھ اور بھی اچھا لگا اس کا چہرہ مجھ کو آئینہ لگا
احساسؔ نے بتوں میں خدا کو کیا شریک اس شرک کے بغیر تو ایمان ہی نہیں
اپنی حالت کا خود احساس نہیں ہے مجھ کو میں نے اوروں سے سنا ہے کہ پریشان ہوں میں
خدا ایسے احساس کا نام ہے رہے سامنے اور دکھائی نہ دے
آگہی کرب وفا صبر تمنا احساس میرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ خنجر سارے
مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے
میں اس کے سامنے سے گزرتا ہوں اس لیے ترک تعلقات کا احساس مر نہ جائے
کیسی بپتا پال رکھی ہے قربت کی اور دوری کی خوشبو مار رہی ہے مجھ کو اپنی ہی کستوری کی
ریزہ ریزہ کر دیا جس نے مرے احساس کو کس قدر حیران ہے وہ مجھ کو یکجا دیکھ کر
مرے اندر کئی احساس پتھر ہو رہے ہیں یہ شیرازہ بکھرنا اب ضروری ہو گیا ہے
ہر طرف اپنے ہی اپنے ہائے تنہائی نہ پوچھ کس قدر کھلتی ہے اکثر ہم کو بینائی نہ پوچھ
اوروں کی آگ کیا تجھے کندن بنائے گی اپنی بھی آگ میں کبھی چپ چاپ جل کے دیکھ
دشمن دل ہی نہیں دشمن جاں ہوتا ہے اف وہ احساس جو پیری میں جواں ہوتا ہے
غم سے احساس کا آئینہ جلا پاتا ہے اور غم سیکھے ہے آ کر یہ سلیقہ مجھ سے
لوگ نازک تھے اور احساس کے ویرانے تک وہ گزرتے ہوئے آنکھوں کی جلن سے آئے
نظر ملی بھی نہ تھی اور ان کو دیکھ لیا زباں کھلی بھی نہ تھی اور بات بھی کر لی
خدا ہماری سماعت کو جب رسائی دے وہ جو بھی سوچے ہمیں دور سے سنائی دے
ہم جیسوں کو بس اتنی اجازت ہے مرے دوست ہم دیکھ ہی سکتے ہیں پسند آیا ہوا شخص
علمبردار تنہائی تھا اپنا فرحتؔ احساس ہجوم شہر کے ہاتھوں جو مارا جا رہا ہے
شدت پیاس کے احساس کو بڑھنے دیجے ایڑیوں سے کبھی چشمے بھی ابل سکتے ہیں
احساسؔ نے بتوں میں خدا کو کیا شریک اس شرک کے بغیر تو ایمان ہی نہیں
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Ehsaas FAQs
Ehsaas collection me kya milega?
Ehsaas se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.