دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
Poetry Collection
Gham
Pain and pleasure, the two facets of life, write our stories in multiple ways. It is interesting that pleasure is a passing season while pain is a condition that stays for long and transforms us. Grief and suffering are the other names of this condition. This selection on the perennial theme of pain and suffering would be of interest to you.
Total
74
Sher
50
Ghazal
24
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
ساری دنیا کے غم ہمارے ہیں اور ستم یہ کہ ہم تمہارے ہیں
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں
غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا
زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم یہ غم ہوگا تو کتنے غم نہ ہوں گے
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے خود راہ بنا لے گا بہتا ہوا پانی ہے
اے غم زندگی نہ ہو ناراض مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی
مصیبت اور لمبی زندگانی بزرگوں کی دعا نے مار ڈالا
میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں
اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا
غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے
سکون دے نہ سکیں راحتیں زمانے کی جو نیند آئی ترے غم کی چھاؤں میں آئی
کیا کہوں کس طرح سے جیتا ہوں غم کو کھاتا ہوں آنسو پیتا ہوں
تجھ کو پا کر بھی نہ کم ہو سکی بے تابئ دل اتنا آسان ترے عشق کا غم تھا ہی نہیں
الٰہی ایک غم روزگار کیا کم تھا کہ عشق بھیج دیا جان مبتلا کے لیے
میری قسمت میں غم گر اتنا تھا دل بھی یارب کئی دیے ہوتے
اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی
جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی جب ترا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی
غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب آج تم یاد بے حساب آئے
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں
اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے
میری قسمت میں غم گر اتنا تھا دل بھی یارب کئی دیے ہوتے
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
غم مجھے دیتے ہو اوروں کی خوشی کے واسطے کیوں برے بنتے ہو تم ناحق کسی کے واسطے
اے غم زندگی نہ ہو ناراض مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی
تم اتنا جو مسکرا رہے ہو کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو
مصیبت اور لمبی زندگانی بزرگوں کی دعا نے مار ڈالا
غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
ان کا غم ان کا تصور ان کی یاد کٹ رہی ہے زندگی آرام سے
اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا
غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے
یہ غم نہیں ہے کہ ہم دونوں ایک ہو نہ سکے یہ رنج ہے کہ کوئی درمیان میں بھی نہ تھا
سکون دے نہ سکیں راحتیں زمانے کی جو نیند آئی ترے غم کی چھاؤں میں آئی
کیا کہوں کس طرح سے جیتا ہوں غم کو کھاتا ہوں آنسو پیتا ہوں
تجھ کو پا کر بھی نہ کم ہو سکی بے تابئ دل اتنا آسان ترے عشق کا غم تھا ہی نہیں
الٰہی ایک غم روزگار کیا کم تھا کہ عشق بھیج دیا جان مبتلا کے لیے
Explore Similar Collections
Gham FAQs
Gham collection me kya milega?
Gham se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.