Poetry Collection

Gunah

The idea of sin is associated with religious faith. The poets have, however, looked at sin from a different perspective. So, sin that drives fears into hearts is also turned into something that entices and brings man face-to-face with a different experience of life. With reference to the ideas and experiences of sin and virtue, good and evil, this selection would bring you many surprises.

Total

50

Sher

49

Ghazal

1

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے

یوں زندگی گزار رہا ہوں ترے بغیر جیسے کوئی گناہ کئے جا رہا ہوں میں

مرے گناہ زیادہ ہیں یا تری رحمت کریم تو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے

تیری بخشش کے بھروسے پہ خطائیں کی ہیں تیری رحمت کے سہارے نے گنہ گار کیا

گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

گنہگاروں میں شامل ہیں گناہوں سے نہیں واقف سزا کو جانتے ہیں ہم خدا جانے خطا کیا ہے

وہ کون ہیں جنہیں توبہ کی مل گئی فرصت ہمیں گناہ بھی کرنے کو زندگی کم ہے

شرکت گناہ میں بھی رہے کچھ ثواب کی توبہ کے ساتھ توڑیئے بوتل شراب کی

دیکھا تو سب کے سر پہ گناہوں کا بوجھ تھا خوش تھے تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر

مرے خدا نے کیا تھا مجھے اسیر بہشت مرے گنہ نے رہائی مجھے دلائی ہے

سنا ہے خواب مکمل کبھی نہیں ہوتے سنا ہے عشق خطا ہے سو کر کے دیکھتے ہیں

گناہوں سے ہمیں رغبت نہ تھی مگر یا رب تری نگاہ کرم کو بھی منہ دکھانا تھا

مجھے گناہ میں اپنا سراغ ملتا ہے وگرنہ پارسا و دین دار میں بھی تھا

لذت کبھی تھی اب تو مصیبت سی ہو گئی مجھ کو گناہ کرنے کی عادت سی ہو گئی

اس بھروسے پہ کر رہا ہوں گناہ بخش دینا تو تیری فطرت ہے

ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد یا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے

روح میں رینگتی رہتی ہے گنہ کی خواہش اس امربیل کو اک دن کوئی دیوار ملے

اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے

یوں زندگی گزار رہا ہوں ترے بغیر جیسے کوئی گناہ کئے جا رہا ہوں میں

مرے گناہ زیادہ ہیں یا تری رحمت کریم تو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے

تیری بخشش کے بھروسے پہ خطائیں کی ہیں تیری رحمت کے سہارے نے گنہ گار کیا

اس بھروسے پہ کر رہا ہوں گناہ بخش دینا تو تیری فطرت ہے

اپنے کسی عمل پہ ندامت نہیں مجھے تھا نیک دل بہت جو گنہ گار مجھ میں تھا

گنہگاروں میں شامل ہیں گناہوں سے نہیں واقف سزا کو جانتے ہیں ہم خدا جانے خطا کیا ہے

ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد یا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے

پوچھے گا جو خدا تو یہ کہہ دیں گے حشر میں ہاں ہاں گنہ کیا تری رحمت کے زور پر

شرکت گناہ میں بھی رہے کچھ ثواب کی توبہ کے ساتھ توڑیئے بوتل شراب کی

دیکھا تو سب کے سر پہ گناہوں کا بوجھ تھا خوش تھے تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر

مرے خدا نے کیا تھا مجھے اسیر بہشت مرے گنہ نے رہائی مجھے دلائی ہے

سنا ہے خواب مکمل کبھی نہیں ہوتے سنا ہے عشق خطا ہے سو کر کے دیکھتے ہیں

گناہوں سے ہمیں رغبت نہ تھی مگر یا رب تری نگاہ کرم کو بھی منہ دکھانا تھا

مجھے گناہ میں اپنا سراغ ملتا ہے وگرنہ پارسا و دین دار میں بھی تھا

لذت کبھی تھی اب تو مصیبت سی ہو گئی مجھ کو گناہ کرنے کی عادت سی ہو گئی

روح میں رینگتی رہتی ہے گنہ کی خواہش اس امربیل کو اک دن کوئی دیوار ملے

Explore Similar Collections

Gunah FAQs

Gunah collection me kya milega?

Gunah se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.