آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے
Poetry Collection
Hijr
If you are in a state of separation from the beloved, here are some verses for you. Reading them, you would be able to realise the pain and suffering that separation brings to lovers. Read these verses and experience the experience of separation. And also consider those who stay in this state and suffer silently.
Total
98
Sher
50
Ghazal
48
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گے شب فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نے
تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں جان بہت شرمندہ ہیں
ملنا تھا اتفاق بچھڑنا نصیب تھا وہ اتنی دور ہو گیا جتنا قریب تھا
آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی
کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا
گزر تو جائے گی تیرے بغیر بھی لیکن بہت اداس بہت بے قرار گزرے گی
روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات اب یہی روزگار ہے اپنا
ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا
بہت دنوں میں محبت کو یہ ہوا معلوم جو تیرے ہجر میں گزری وہ رات رات ہوئی
بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں لگے گا لگنے لگا ہے مگر لگے گا نہیں
کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا
اک ٹیس جگر میں اٹھتی ہے اک درد سا دل میں ہوتا ہے ہم رات کو رویا کرتے ہیں جب سارا عالم سوتا ہے
جس کی آنکھوں میں کٹی تھیں صدیاں اس نے صدیوں کی جدائی دی ہے
اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات
یوں زندگی گزار رہا ہوں ترے بغیر جیسے کوئی گناہ کئے جا رہا ہوں میں
ہم کہاں اور تم کہاں جاناں ہیں کئی ہجر درمیاں جاناں
مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ
خدا کرے کہ تری عمر میں گنے جائیں وہ دن جو ہم نے ترے ہجر میں گزارے تھے
آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے
وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گے شب فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نے
تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں جان بہت شرمندہ ہیں
ملنا تھا اتفاق بچھڑنا نصیب تھا وہ اتنی دور ہو گیا جتنا قریب تھا
کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی
آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے
گزر تو جائے گی تیرے بغیر بھی لیکن بہت اداس بہت بے قرار گزرے گی
روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات اب یہی روزگار ہے اپنا
آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں
بہت دنوں میں محبت کو یہ ہوا معلوم جو تیرے ہجر میں گزری وہ رات رات ہوئی
اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات
یوں زندگی گزار رہا ہوں ترے بغیر جیسے کوئی گناہ کئے جا رہا ہوں میں
ہم کہاں اور تم کہاں جاناں ہیں کئی ہجر درمیاں جاناں
بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں لگے گا لگنے لگا ہے مگر لگے گا نہیں
وصل ہو یا فراق ہو اکبرؔ جاگنا رات بھر مصیبت ہے
مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ
مر جاتا ہوں جب یہ سوچتا ہوں میں تیرے بغیر جی رہا ہوں
خدا کرے کہ تری عمر میں گنے جائیں وہ دن جو ہم نے ترے ہجر میں گزارے تھے
فرازؔ عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی یہ کس نے فتنۂ ہجر و وصال رکھا ہے
Explore Similar Collections
Hijr FAQs
Hijr collection me kya milega?
Hijr se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.