مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
Poetry Collection
Hijrat
The act of moving or shifting from one place to another, or from one country to another is what we know as migration. Human beings migrate for religious, political, economic, and several other reasons. The shers selected on this subject expose you to a wide variety of experiences concerning migration. These relate with the lingering memories of home, sense of loss, pains of separation, crisis of identity, and desire for retreat.
Total
37
Sher
31
Ghazal
6
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
تلاش رزق کا یہ مرحلہ عجب ہے کہ ہم گھروں سے دور بھی گھر کے لیے بسے ہوئے ہیں
پانی میں عکس اور کسی آسماں کا ہے یہ ناؤ کون سی ہے یہ دریا کہاں کا ہے
غربت کی ٹھنڈی چھاؤں میں یاد آئی اس کی دھوپ قدر وطن ہوئی ہمیں ترک وطن کے بعد
کچھ بے ٹھکانہ کرتی رہیں ہجرتیں مدام کچھ میری وحشتوں نے مجھے در بدر کیا
گھر تو کیا گھر کا نشاں بھی نہیں باقی صفدرؔ اب وطن میں کبھی جائیں گے تو مہماں ہوں گے
یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی جو جا چکا ہے اسے لوٹ کر نہیں آنا
میں کیا جانوں گھروں کا حال کیا ہے میں ساری زندگی باہر رہا ہوں
میں بہت کمزور تھا اس ملک میں ہجرت کے بعد پر مجھے اس ملک میں کمزور تر اس نے کیا
پھر نئی ہجرت کوئی درپیش ہے خواب میں گھر دیکھنا اچھا نہیں
آزادیوں کے شوق و ہوس نے ہمیں عدیلؔ اک اجنبی زمین کا قیدی بنا دیا
یہ کیسی ہجرتیں ہیں موسموں میں پرندے بھی نہیں ہیں گھونسلوں میں
ڈھنگ کے ایک ٹھکانے کے لیے گھر کا گھر نقل مکانی میں رہا
دھوپ مسافر چھاؤں مسافر آئے کوئی کوئی جائے گھر میں بیٹھا سوچ رہا ہوں آنگن ہے یا رستہ ہے
غول کے غول مرے صحن میں آ بیٹھتے ہیں یہ پرندے مجھے ہجرت نہیں کرنے دیتے
ایک ہجرت تو مجھ کو تھی درپیش ہجر بھی اس کے درمیان پڑا
شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
ہر نئی نسل کو اک تازہ مدینے کی تلاش صاحبو اب کوئی ہجرت نہیں ہوگی ہم سے
نہ رنج ہجرت تھا اور نہ شوق سفر تھا دل میں سب اپنے اپنے گناہ کا بوجھ ڈھو رہے تھے
جب اپنی سر زمین نے مجھ کو نہ دی پناہ انجان وادیوں میں اترنا پڑا مجھے
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
تلاش رزق کا یہ مرحلہ عجب ہے کہ ہم گھروں سے دور بھی گھر کے لیے بسے ہوئے ہیں
پانی میں عکس اور کسی آسماں کا ہے یہ ناؤ کون سی ہے یہ دریا کہاں کا ہے
غربت کی ٹھنڈی چھاؤں میں یاد آئی اس کی دھوپ قدر وطن ہوئی ہمیں ترک وطن کے بعد
شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
درد ہجرت کے ستائے ہوئے لوگوں کو کہیں سایۂ در بھی نظر آئے تو گھر لگتا ہے
گھر تو کیا گھر کا نشاں بھی نہیں باقی صفدرؔ اب وطن میں کبھی جائیں گے تو مہماں ہوں گے
یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی کہ اب تو جا کے کہیں دن سنورنے والے تھے
میں کیا جانوں گھروں کا حال کیا ہے میں ساری زندگی باہر رہا ہوں
مجھے تو خیر وطن چھوڑ کر اماں نہ ملی وطن بھی مجھ سے غریب الوطن کو ترسے گا
پھر نئی ہجرت کوئی درپیش ہے خواب میں گھر دیکھنا اچھا نہیں
ہر نئی نسل کو اک تازہ مدینے کی تلاش صاحبو اب کوئی ہجرت نہیں ہوگی ہم سے
آزادیوں کے شوق و ہوس نے ہمیں عدیلؔ اک اجنبی زمین کا قیدی بنا دیا
رسم و رواج چھوڑ کے سب آ گئے یہاں رکھی ہوئی ہیں طاق میں اب غیرتیں تمام
یہ کیسی ہجرتیں ہیں موسموں میں پرندے بھی نہیں ہیں گھونسلوں میں
جب اپنی سر زمین نے مجھ کو نہ دی پناہ انجان وادیوں میں اترنا پڑا مجھے
ڈھنگ کے ایک ٹھکانے کے لیے گھر کا گھر نقل مکانی میں رہا
دھوپ مسافر چھاؤں مسافر آئے کوئی کوئی جائے گھر میں بیٹھا سوچ رہا ہوں آنگن ہے یا رستہ ہے
اپنے رسم و رواج کھو بیٹھے باقی اب خاندان میں کیا ہے
غول کے غول مرے صحن میں آ بیٹھتے ہیں یہ پرندے مجھے ہجرت نہیں کرنے دیتے
Explore Similar Collections
Hijrat FAQs
Hijrat collection me kya milega?
Hijrat se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.