یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
Poetry Collection
Ilm
Knowledge is power. Men traverse long distances to enrich themselves with knowledge. Life is meaningful because there is an urge to learn and broaden the frontiers of knowledge. You have a selection of verses here on knowledge that open up new dimensions of this subject.
Total
22
Sher
20
Ghazal
2
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں
علم کی ابتدا ہے ہنگامہ علم کی انتہا ہے خاموشی
یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائے سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم
ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں
عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے دل یہ کہتا ہے فریب دوست کھاتے جائیے
لفظ و منظر میں معانی کو ٹٹولا نہ کرو ہوش والے ہو تو ہر بات کو سمجھا نہ کرو
آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا
مرے قبیلے میں تعلیم کا رواج نہ تھا مرے بزرگ مگر تختیاں بناتے تھے
جنوں کو ہوش کہاں اہتمام غارت کا فساد جو بھی جہاں میں ہوا خرد سے ہوا
ہمی وہ علم کے روشن چراغ ہیں جن کو ہوا بجھاتی نہیں ہے سلام کرتی ہے
جان کا صرفہ ہو تو ہو لیکن صرف کرنے سے علم بڑھتا ہے
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
عقل میں جو گھر گیا لا انتہا کیوں کر ہوا جو سما میں آ گیا پھر وہ خدا کیوں کر ہوا
یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
علم کی ابتدا ہے ہنگامہ علم کی انتہا ہے خاموشی
حد سے بڑھے جو علم تو ہے جہل دوستو سب کچھ جو جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیں
ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں
تھوڑی سی عقل لائے تھے ہم بھی مگر عدمؔ دنیا کے حادثات نے دیوانہ کر دیا
عقل میں جو گھر گیا لا انتہا کیوں کر ہوا جو سما میں آ گیا پھر وہ خدا کیوں کر ہوا
آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا
ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کا انتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہت
جنوں کو ہوش کہاں اہتمام غارت کا فساد جو بھی جہاں میں ہوا خرد سے ہوا
وہ کھڑا ہے ایک باب علم کی دہلیز پر میں یہ کہتا ہوں اسے اس خوف میں داخل نہ ہو
جان کا صرفہ ہو تو ہو لیکن صرف کرنے سے علم بڑھتا ہے
اجالا علم کا پھیلا تو ہے چاروں طرف یارو بصیرت آدمی کی کچھ مگر کم ہوتی جاتی ہے
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Ilm FAQs
Ilm collection me kya milega?
Ilm se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.