aaj unhen kuchh is tarah ji khol kar dekha kiye
آج انہیں کچھ اس طرح جی کھول کر دیکھا کئے ایک ہی لمحے میں جیسے عمر بھر دیکھا کئے دل اگر بیتاب ہے دل کا مقدر ہے یہی جس قدر تھی ہم کو توفیق نظر دیکھا کئے خود فروشانہ ادا تھی میری صورت دیکھنا اپنے ہی جلوے بہ انداز دگر دیکھا کئے ناشناس غم فقط داد ہنر دیتے رہے ہم متاع غم کو رسوائے ہنر دیکھا کئے دیکھنے کا اب یہ عالم ہے کوئی ہو یا نہ ہو ہم جدھر دیکھا کئے پہروں ادھر دیکھا کئے حسن کو دیکھا ہے میں نے حسن کی خاطر حفیظؔ ورنہ سب اپنا ہی معیار نظر دیکھا کئے