Poetry Collection

Karbala

Karbala par curated selection jahan sher, ghazal aur nazm ko readable format me discover kiya ja sakta hai.

Total

28

Sher

27

Ghazal

1

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

میرے سینے سے ذرا کان لگا کر دیکھو سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے

جب بھی ضمیر و ظرف کا سودا ہو دوستو قائم رہو حسین کے انکار کی طرح

سلام ان پہ تہ تیغ بھی جنہوں نے کہا جو تیرا حکم جو تیری رضا جو تو چاہے

پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون دست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون

سانس لیتا ہوں تو روتا ہے کوئی سینے میں دل دھڑکتا ہے تو ماتم کی صدا آتی ہے

تا قیامت ذکر سے روشن رہے گی یہ زمیں ظلمتوں کی شام میں اک روشنی ہے کربلا

ہوائے کوفۂ نا مہرباں کو حیرت ہے کہ لوگ خیمۂ صبر و رضا میں زندہ ہیں

ساحل تمام اشک ندامت سے اٹ گیا دریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا

~ Shakeb Jalali

تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش رہتا ہے سدا چاک گریبان سحر بھی

تنہا کھڑا ہوں میں بھی سر کربلائے عصر اور سوچتا ہوں میرے طرفدار کیا ہوئے

زوال عصر ہے کوفے میں اور گداگر ہیں کھلا نہیں کوئی در باب التجا کے سوا

کھینچ لائی جانب دریا ہمیں بھی تشنگی اب گلوئے خشک کا خنجر پہ رم ہونے کو ہے

میں اسی کوہ صفت خون کی اک بوند ہوں جو ریگ زار نجف و خاک خراساں سے ملا

کوئی دریا کی طرف جانے کو تیار نہیں ہاتھ سب کے ہیں مگر کوئی علم دار نہیں

ہوائے ظلم سوچتی ہے کس بھنور میں آ گئی وہ اک دیا بجھا تو سینکڑوں دئیے جلا گیا

میرے سینے سے ذرا کان لگا کر دیکھو سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے

جب بھی ضمیر و ظرف کا سودا ہو دوستو قائم رہو حسین کے انکار کی طرح

سلام ان پہ تہ تیغ بھی جنہوں نے کہا جو تیرا حکم جو تیری رضا جو تو چاہے

بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی

پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون دست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون

عشرت قتل گہہ اہل تمنا مت پوچھ عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا

تا قیامت ذکر سے روشن رہے گی یہ زمیں ظلمتوں کی شام میں اک روشنی ہے کربلا

حسین ابن علی کربلا کو جاتے ہیں مگر یہ لوگ ابھی تک گھروں کے اندر ہیں

ساحل تمام اشک ندامت سے اٹ گیا دریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا

~ Shakeb Jalali

کل جہاں ظلم نے کاٹی تھیں سروں کی فصلیں نم ہوئی ہے تو اسی خاک سے لشکر نکلا

تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش رہتا ہے سدا چاک گریبان سحر بھی

تم جو کچھ چاہو وہ تاریخ میں تحریر کرو یہ تو نیزہ ہی سمجھتا ہے کہ سر میں کیا تھا

ہم سے طے ہوگا زمانے میں بلندی کا وقار نوک نیزہ سے بھی ہم نیچے نہیں دیکھیں گے

سینہ کوبی سے زمیں ساری ہلا کے اٹھے کیا علم دھوم سے تیرے شہدا کے اٹھے

میں اسی کوہ صفت خون کی اک بوند ہوں جو ریگ زار نجف و خاک خراساں سے ملا

شعور تشنگی اک روز میں پختہ نہیں ہوتا مرے ہونٹوں نے صدیوں کربلا کی خاک چومی ہے

You have reached the end.

Explore Similar Collections

Karbala FAQs

Karbala collection me kya milega?

Karbala se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.