میں کشتی میں اکیلا تو نہیں ہوں مرے ہم راہ دریا جا رہا ہے
Poetry Collection
Kashti
The images of boat, river, bank, waves, and sailor have always gone hand in hand. They together tell us the long and short story of life in symbolic terms. Here is a selection of verses on boat that brings about a variety of ideas and experiences together.
Total
20
Sher
19
Ghazal
1
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے
دریا کے تلاطم سے تو بچ سکتی ہے کشتی کشتی میں تلاطم ہو تو ساحل نہ ملے گا
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
اس نا خدا کے ظلم و ستم ہائے کیا کروں کشتی مری ڈبوئی ہے ساحل کے آس پاس
یہ الگ بات کہ میں نوح نہیں تھا لیکن میں نے کشتی کو غلط سمت میں بہنے نہ دیا
چمک رہا ہے خیمۂ روشن دور ستارے سا دل کی کشتی تیر رہی ہے کھلے سمندر میں
اگر اے ناخدا طوفان سے لڑنے کا دم خم ہے ادھر کشتی نہ لے آنا یہاں پانی بہت کم ہے
کشتئ اعتبار توڑ کے دیکھ کہ خدا بھی ہے نا خدا ہی نہیں
انگنت سفینوں میں دیپ جگمگاتے ہیں رات نے لٹایا ہے رنگ و نور پانی پر
کبھی اس کی موجوں میں افلاک بہتے ملے ہیں کبھی اس کو کشتی چلاتے ہوئے دیکھتا ہوں
جسے تم چاہ کر بھی پار ہرگز کر نہیں پائے میں ٹوٹی پھوٹی کشتی سے وہ دریا پار کرتا تھا
ناخدا ہے موت جو دم ہے سو ہے باد مراد عزم ہے کشتیٔ تن کو بحر ہستی یار کا
میں کشتی میں اکیلا تو نہیں ہوں مرے ہم راہ دریا جا رہا ہے
اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے
دریا کے تلاطم سے تو بچ سکتی ہے کشتی کشتی میں تلاطم ہو تو ساحل نہ ملے گا
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
اس نا خدا کے ظلم و ستم ہائے کیا کروں کشتی مری ڈبوئی ہے ساحل کے آس پاس
یہ الگ بات کہ میں نوح نہیں تھا لیکن میں نے کشتی کو غلط سمت میں بہنے نہ دیا
چمک رہا ہے خیمۂ روشن دور ستارے سا دل کی کشتی تیر رہی ہے کھلے سمندر میں
اگر اے ناخدا طوفان سے لڑنے کا دم خم ہے ادھر کشتی نہ لے آنا یہاں پانی بہت کم ہے
کشتئ اعتبار توڑ کے دیکھ کہ خدا بھی ہے نا خدا ہی نہیں
انگنت سفینوں میں دیپ جگمگاتے ہیں رات نے لٹایا ہے رنگ و نور پانی پر
کبھی اس کی موجوں میں افلاک بہتے ملے ہیں کبھی اس کو کشتی چلاتے ہوئے دیکھتا ہوں
جسے تم چاہ کر بھی پار ہرگز کر نہیں پائے میں ٹوٹی پھوٹی کشتی سے وہ دریا پار کرتا تھا
ناخدا ہے موت جو دم ہے سو ہے باد مراد عزم ہے کشتیٔ تن کو بحر ہستی یار کا
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Kashti FAQs
Kashti collection me kya milega?
Kashti se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.