مستقل بولتا ہی رہتا ہوں کتنا خاموش ہوں میں اندر سے
Poetry Collection
Khamoshi
These verses on silence have a voice of their own. They convey a mood and a state which reflect human condition on the whole. As silence is more eloquent than voice sometimes, it is quite a challenge to the poets to represent those silences and eloquences in poetry. Here is a small selection for you that you might like.
Total
74
Sher
50
Ghazal
24
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
ہم لبوں سے کہہ نہ پائے ان سے حال دل کبھی اور وہ سمجھے نہیں یہ خامشی کیا چیز ہے
آپ نے تصویر بھیجی میں نے دیکھی غور سے ہر ادا اچھی خموشی کی ادا اچھی نہیں
خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہوتی ہے تڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے
اسے بے چین کر جاؤں گا میں بھی خموشی سے گزر جاؤں گا میں بھی
میری خاموشیوں میں لرزاں ہے میرے نالوں کی گم شدہ آواز
محبت سوز بھی ہے ساز بھی ہے خموشی بھی ہے یہ آواز بھی ہے
چپ رہو تو پوچھتا ہے خیر ہے لو خموشی بھی شکایت ہو گئی
تمہارے خط میں نظر آئی اتنی خاموشی کہ مجھ کو رکھنے پڑے اپنے کان کاغذ پر
ہر طرف تھی خاموشی اور ایسی خاموشی رات اپنے سائے سے ہم بھی ڈر کے روئے تھے
جو چپ رہا تو وہ سمجھے گا بد گمان مجھے برا بھلا ہی سہی کچھ تو بول آؤں میں
خموشی میری معنی خیز تھی اے آرزو کتنی کہ جس نے جیسا چاہا ویسا افسانہ بنا ڈالا
باقیؔ جو چپ رہوگے تو اٹھیں گی انگلیاں ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو
ہر ایک بات زباں سے کہی نہیں جاتی جو چپکے بیٹھے ہیں کچھ ان کی بات بھی سمجھو
نکالے گئے اس کے معنی ہزار عجب چیز تھی اک مری خامشی
رنگ درکار تھے ہم کو تری خاموشی کے ایک آواز کی تصویر بنانی تھی ہمیں
چھیڑ کر جیسے گزر جاتی ہے دوشیزہ ہوا دیر سے خاموش ہے گہرا سمندر اور میں
ہم نے اول تو کبھی اس کو پکارا ہی نہیں اور پکارا تو پکارا بھی صداؤں کے بغیر
بولتے کیوں نہیں مرے حق میں آبلے پڑ گئے زبان میں کیا
خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
مستقل بولتا ہی رہتا ہوں کتنا خاموش ہوں میں اندر سے
ہم لبوں سے کہہ نہ پائے ان سے حال دل کبھی اور وہ سمجھے نہیں یہ خامشی کیا چیز ہے
علم کی ابتدا ہے ہنگامہ علم کی انتہا ہے خاموشی
آپ نے تصویر بھیجی میں نے دیکھی غور سے ہر ادا اچھی خموشی کی ادا اچھی نہیں
خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
چپ چاپ اپنی آگ میں جلتے رہو فرازؔ دنیا تو عرض حال سے بے آبرو کرے
میری خاموشیوں میں لرزاں ہے میرے نالوں کی گم شدہ آواز
چپ چپ کیوں رہتے ہو ناصرؔ یہ کیا روگ لگا رکھا ہے
چپ رہو تو پوچھتا ہے خیر ہے لو خموشی بھی شکایت ہو گئی
دور خاموش بیٹھا رہتا ہوں اس طرح حال دل کا کہتا ہوں
ہر طرف تھی خاموشی اور ایسی خاموشی رات اپنے سائے سے ہم بھی ڈر کے روئے تھے
زور قسمت پہ چل نہیں سکتا خامشی اختیار کرتا ہوں
خموشی میری معنی خیز تھی اے آرزو کتنی کہ جس نے جیسا چاہا ویسا افسانہ بنا ڈالا
مری خاموشیوں پر دنیا مجھ کو طعن دیتی ہے یہ کیا جانے کہ چپ رہ کر بھی کی جاتی ہیں تقریریں
ہر ایک بات زباں سے کہی نہیں جاتی جو چپکے بیٹھے ہیں کچھ ان کی بات بھی سمجھو
اثر بھی لے رہا ہوں تیری چپ کا تجھے قائل بھی کرتا جا رہا ہوں
رنگ درکار تھے ہم کو تری خاموشی کے ایک آواز کی تصویر بنانی تھی ہمیں
خاموشی میں چاہے جتنا بیگانہ پن ہو لیکن اک آہٹ جانی پہچانی ہوتی ہے
چھیڑ کر جیسے گزر جاتی ہے دوشیزہ ہوا دیر سے خاموش ہے گہرا سمندر اور میں
ہم نے اول تو کبھی اس کو پکارا ہی نہیں اور پکارا تو پکارا بھی صداؤں کے بغیر
Explore Similar Collections
Khamoshi FAQs
Khamoshi collection me kya milega?
Khamoshi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.