Poetry Collection

Khuda

The idea of God and Godhood fascinates us all. Not only the creator and the mover, he is also the one in whom we confide, to whom we complain, and from whom we expect deliverance. The Sufi poets develop an altogether different rapport with God. Here are some verses that you would find of interest.

Total

56

Sher

50

Ghazal

6

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے

اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے اسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہے

سامنے ہے جو اسے لوگ برا کہتے ہیں جس کو دیکھا ہی نہیں اس کو خدا کہتے ہیں

اتنا خالی تھا اندروں میرا کچھ دنوں تو خدا رہا مجھ میں

آتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یاد مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ

خدا ایسے احساس کا نام ہے رہے سامنے اور دکھائی نہ دے

مرے گناہ زیادہ ہیں یا تری رحمت کریم تو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے

تیری بخشش کے بھروسے پہ خطائیں کی ہیں تیری رحمت کے سہارے نے گنہ گار کیا

میرؔ بندوں سے کام کب نکلا مانگنا ہے جو کچھ خدا سے مانگ

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں

ارے او آسماں والے بتا اس میں برا کیا ہے خوشی کے چار جھونکے گر ادھر سے بھی گزر جائیں

میں پیمبر ترا نہیں لیکن مجھ سے بھی بات کر خدا میرے

گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

تمام پیکر بدصورتی ہے مرد کی ذات مجھے یقیں ہے خدا مرد ہو نہیں سکتا

خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبرؔ یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد

مجھ کو خواہش ہی ڈھونڈنے کی نہ تھی مجھ میں کھویا رہا خدا میرا

اس بھروسے پہ کر رہا ہوں گناہ بخش دینا تو تیری فطرت ہے

کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے

اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے اسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہے

سامنے ہے جو اسے لوگ برا کہتے ہیں جس کو دیکھا ہی نہیں اس کو خدا کہتے ہیں

اتنا خالی تھا اندروں میرا کچھ دنوں تو خدا رہا مجھ میں

خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبرؔ یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد

آتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یاد مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ

مجھ کو خواہش ہی ڈھونڈنے کی نہ تھی مجھ میں کھویا رہا خدا میرا

فرشتے حشر میں پوچھیں گے پاک بازوں سے گناہ کیوں نہ کیے کیا خدا غفور نہ تھا

میرؔ بندوں سے کام کب نکلا مانگنا ہے جو کچھ خدا سے مانگ

چل دئیے سوئے حرم کوئے بتاں سے مومنؔ جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا

عقل میں جو گھر گیا لا انتہا کیوں کر ہوا جو سما میں آ گیا پھر وہ خدا کیوں کر ہوا

اس بھروسے پہ کر رہا ہوں گناہ بخش دینا تو تیری فطرت ہے

گل غنچے آفتاب شفق چاند کہکشاں ایسی کوئی بھی چیز نہیں جس میں تو نہ ہو

میں پیمبر ترا نہیں لیکن مجھ سے بھی بات کر خدا میرے

گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

تمام پیکر بدصورتی ہے مرد کی ذات مجھے یقیں ہے خدا مرد ہو نہیں سکتا

Explore Similar Collections

Khuda FAQs

Khuda collection me kya milega?

Khuda se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.