نازکی اس کے لب کی کیا کہئے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
Poetry Collection
Lab
Romantic poetry in Urdu eulogizes the lips of the beloved no end. The poets have configured lips in many different ways but in most of them it is an extremely desired object of love. Silent or eloquent, lips have always been romanticized. You may have a look at these verses and get a glimpse of how the poets construct the images of lips
Total
32
Sher
31
Ghazal
1
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
اس کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنے بات ہی ہم تمام کر رہے ہیں
سو دیکھ کر ترے رخسار و لب یقیں آیا کہ پھول کھلتے ہیں گل زار کے علاوہ بھی
کیوں پرکھتے ہو سوالوں سے جوابوں کو عدیمؔ ہونٹ اچھے ہوں تو سمجھو کہ سوال اچھا ہے
صرف اس کے ہونٹ کاغذ پر بنا دیتا ہوں میں خود بنا لیتی ہے ہونٹوں پر ہنسی اپنی جگہ
ایک دم اس کے ہونٹ چوم لیے یہ مجھے بیٹھے بیٹھے کیا سوجھی
خدا کو مان کہ تجھ لب کے چومنے کے سوا کوئی علاج نہیں آج کی اداسی کا
ترے لبوں کو ملی ہے شگفتگی گل کی ہماری آنکھ کے حصے میں جھرنے آئے ہیں
بجھے لبوں پہ ہے بوسوں کی راکھ بکھری ہوئی میں اس بہار میں یہ راکھ بھی اڑا دوں گا
کچھ تو مل جائے لب شیریں سے زہر کھانے کی اجازت ہی سہی
کسی کو خواب میں اکثر پکارتے ہیں ہم عطاؔ اسی لیے سوتے میں ہونٹ ہلتے ہیں
کانپتے ہونٹ بھیگتی پلکیں بات ادھوری ہی چھوڑ دیتا ہوں
غرور تشنہ دہانی تری بقا کی قسم ندی ہمارے لبوں کی طرف اچھلتی رہی
اشک آنکھوں سے مری نکلے مسلسل لیکن اس نے اک حرف تسلی نہ نکالا لب سے
مدت کے بعد نورؔ ہنسی لب پہ آئی ہے وہ اپنا ہم خیال بنا لے گیا مجھے
ظلم سہہ کے بھی میں نے ہونٹ سی لیے غازیؔ ایک ظرف ان کا ہے ایک ظرف میرا ہے
مرے اشعار ہیں وہ آسمانی خواب جن کو مری مٹی کے ہونٹھوں پر اتارا جا رہا ہے
ساقیا مہر بلب کر کے صلہ کیا پایا حشر کچھ اور خموشی نے بپا رکھا ہے
اک بوسہ ثبت کرنے کا اعلان کر دیا ہونٹوں کا جس نے رکھ دیا حلیہ بگاڑ کر
شوق ہے اس دل درندہ کو آپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کا
نازکی اس کے لب کی کیا کہئے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
اس کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنے بات ہی ہم تمام کر رہے ہیں
شوق ہے اس دل درندہ کو آپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کا
سو دیکھ کر ترے رخسار و لب یقیں آیا کہ پھول کھلتے ہیں گل زار کے علاوہ بھی
تجھ سا کوئی جہان میں نازک بدن کہاں یہ پنکھڑی سے ہونٹ یہ گل سا بدن کہاں
صرف اس کے ہونٹ کاغذ پر بنا دیتا ہوں میں خود بنا لیتی ہے ہونٹوں پر ہنسی اپنی جگہ
ان لبوں نے نہ کی مسیحائی ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
خدا کو مان کہ تجھ لب کے چومنے کے سوا کوئی علاج نہیں آج کی اداسی کا
ترے لبوں کو ملی ہے شگفتگی گل کی ہماری آنکھ کے حصے میں جھرنے آئے ہیں
آتا ہے جی میں ساقئ مہ وش پہ بار بار لب چوم لوں ترا لب پیمانہ چھوڑ کر
کچھ تو مل جائے لب شیریں سے زہر کھانے کی اجازت ہی سہی
ہونٹوں پر اک بار سجا کر اپنے ہونٹ اس کے بعد نہ باتیں کرنا سو جانا
کانپتے ہونٹ بھیگتی پلکیں بات ادھوری ہی چھوڑ دیتا ہوں
کیا کروں اے تشنگی تیرا مداوا بس وہ لب جن لبوں کو چھو کے پانی آگ بنتا جائے ہے
اشک آنکھوں سے مری نکلے مسلسل لیکن اس نے اک حرف تسلی نہ نکالا لب سے
یہ لب و رخسار یہ چہرا تیرا پر نور سا تجھ کو کیا دیکھا لگا جیسے کوئی دیکھی غزل
ظلم سہہ کے بھی میں نے ہونٹ سی لیے غازیؔ ایک ظرف ان کا ہے ایک ظرف میرا ہے
کلی چٹخ کے لبوں کے مزاج تک پہنچی گلاب ٹوٹ کے سرخیٔ گال تک آئے
ساقیا مہر بلب کر کے صلہ کیا پایا حشر کچھ اور خموشی نے بپا رکھا ہے
کوئی معجزاتی سا ایک دل ربا لمحہ اس کے ہونٹ کھل جائیں میرے لب پہ تالا ہو
Explore Similar Collections
Lab FAQs
Lab collection me kya milega?
Lab se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.