میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
Poetry Collection
Manzil
The desire to reach the destination is a natural human desire. Even the quest for a destination is in itself a fascinating phenomenon. And even while human beings reach a destination, their nature compels them to seek and arrive at newer destinations. This keeps them perennially preoccupied. This subject has been common to many poets. You may see some of them here expressing themselves in their own ways.
Total
43
Sher
41
Ghazal
2
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا
صرف اک قدم اٹھا تھا غلط راہ شوق میں منزل تمام عمر مجھے ڈھونڈھتی رہی
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
کوئی منزل کے قریب آ کے بھٹک جاتا ہے کوئی منزل پہ پہنچتا ہے بھٹک جانے سے
اس نے منزل پہ لا کے چھوڑ دیا عمر بھر جس کا راستا دیکھا
وہ کیا منزل جہاں سے راستے آگے نکل جائیں سو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا
اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے
میری تقدیر میں منزل نہیں ہے غبار کارواں ہے اور میں ہوں
حسرت پہ اس مسافر بے کس کی روئیے جو تھک گیا ہو بیٹھ کے منزل کے سامنے
ایک منزل ہے مگر راہ کئی ہیں اظہرؔ سوچنا یہ ہے کہ جاؤ گے کدھر سے پہلے
کوئی منزل آخری منزل نہیں ہوتی فضیلؔ زندگی بھی ہے مثال موج دریا راہ رو
محبت آپ ہی منزل ہے اپنی نہ جانے حسن کیوں اترا رہا ہے
منزل نہ ملی تو غم نہیں ہے اپنے کو تو کھو کے پا گیا ہوں
مجھ کو منزل بھی نہ پہچان سکی میں کہ جب گرد سفر سے نکلا
چلا میں جانب منزل تو یہ ہوا معلوم یقیں گمان میں گم ہے گماں ہے پوشیدہ
نہ تو رنج و غم سے ہی ربط ہے نہ ہی آشنائے خوشی ہوں میں مری زندگی بھی عجیب ہے اسے منزلوں کا پتا نہیں
خود بخود راہ لئے جاتی ہے اس کی جانب اب کہاں تک ہے رسائی مجھے معلوم نہیں
تم خود ہی چلے آؤ گے شاید سر منزل اک راہ نکالی ہے مری در بدری نے
فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا
صرف اک قدم اٹھا تھا غلط راہ شوق میں منزل تمام عمر مجھے ڈھونڈھتی رہی
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
کوئی منزل کے قریب آ کے بھٹک جاتا ہے کوئی منزل پہ پہنچتا ہے بھٹک جانے سے
نہیں ہوتی ہے راہ عشق میں آسان منزل سفر میں بھی تو صدیوں کی مسافت چاہئے ہے
وہ کیا منزل جہاں سے راستے آگے نکل جائیں سو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا
سب کو پہنچا کے ان کی منزل پر آپ رستے میں رہ گیا ہوں میں
مجھے آ گیا یقیں سا کہ یہی ہے میری منزل سر راہ جب کسی نے مجھے دفعتاً پکارا
حسرت پہ اس مسافر بے کس کی روئیے جو تھک گیا ہو بیٹھ کے منزل کے سامنے
منزلیں گرد کے مانند اڑی جاتی ہیں وہی انداز جہان گزراں ہے کہ جو تھا
کوئی منزل آخری منزل نہیں ہوتی فضیلؔ زندگی بھی ہے مثال موج دریا راہ رو
منزل ملی مراد ملی مدعا ملا سب کچھ مجھے ملا جو ترا نقش پا ملا
منزل نہ ملی تو غم نہیں ہے اپنے کو تو کھو کے پا گیا ہوں
راہ بر رہزن نہ بن جائے کہیں اس سوچ میں چپ کھڑا ہوں بھول کر رستے میں منزل کا پتا
چلا میں جانب منزل تو یہ ہوا معلوم یقیں گمان میں گم ہے گماں ہے پوشیدہ
کس منزل مراد کی جانب رواں ہیں ہم اے رہروان خاک بسر پوچھتے چلو
خود بخود راہ لئے جاتی ہے اس کی جانب اب کہاں تک ہے رسائی مجھے معلوم نہیں
منزل پہ پہنچ سکتے نہیں ایسے مسافر ہر گام پہ ہو خوف جنہیں آبلہ پا کا
Explore Similar Collections
Manzil FAQs
Manzil collection me kya milega?
Manzil se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.