شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں
Poetry Collection
Mayoosi
Disappointment is generally supposed to be a sign of human weakness. Many a time, life does not give us a chance to get rid of disappointments. In spite of this, life goes on and one learns to live with disappointments. Interestingly, it is the disappointment only which sometimes drives human beings to wage a war against it and emerge victorious. These verses offer ways to appreciate various facets of success and failure in life.
Total
90
Sher
50
Ghazal
40
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
خدا کی اتنی بڑی کائنات میں میں نے بس ایک شخص کو مانگا مجھے وہی نہ ملا
کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دل وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے
نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں اک ایسی راہ پہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں
کسی کے تم ہو کسی کا خدا ہے دنیا میں مرے نصیب میں تم بھی نہیں خدا بھی نہیں
ناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کر آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے
ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا
کوئی خودکشی کی طرف چل دیا اداسی کی محنت ٹھکانے لگی
غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے
ناامیدی بڑھ گئی ہے اس قدر آرزو کی آرزو ہونے لگی
تیرا ملنا خوشی کی بات سہی تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
چند کلیاں نشاط کی چن کر مدتوں محو یاس رہتا ہوں تیرا ملنا خوشی کی بات سہی تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ اداسی بال کھولے سو رہی ہے
مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے بہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں
دل تو میرا اداس ہے ناصرؔ شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
ہم غم زدہ ہیں لائیں کہاں سے خوشی کے گیت دیں گے وہی جو پائیں گے اس زندگی سے ہم
آج تو بے سبب اداس ہے جی عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی
ان کا غم ان کا تصور ان کے شکوے اب کہاں اب تو یہ باتیں بھی اے دل ہو گئیں آئی گئی
شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
تیرا ملنا خوشی کی بات سہی تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں
خدا کی اتنی بڑی کائنات میں میں نے بس ایک شخص کو مانگا مجھے وہی نہ ملا
کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دل وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
بھری دنیا میں جی نہیں لگتا جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں اک ایسی راہ پہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ اداسی بال کھولے سو رہی ہے
کبھی کبھی تو چھلک پڑتی ہیں یوں ہی آنکھیں اداس ہونے کا کوئی سبب نہیں ہوتا
ہمارے گھر کا پتا پوچھنے سے کیا حاصل اداسیوں کی کوئی شہریت نہیں ہوتی
ہم غم زدہ ہیں لائیں کہاں سے خوشی کے گیت دیں گے وہی جو پائیں گے اس زندگی سے ہم
ابھی نہ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب ابھی حیات کا ماحول خوش گوار نہیں
ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا
رات آ کر گزر بھی جاتی ہے اک ہماری سحر نہیں ہوتی
غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے
آج تو بے سبب اداس ہے جی عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی
ناامیدی بڑھ گئی ہے اس قدر آرزو کی آرزو ہونے لگی
ان کا غم ان کا تصور ان کے شکوے اب کہاں اب تو یہ باتیں بھی اے دل ہو گئیں آئی گئی
Explore Similar Collections
Mayoosi FAQs
Mayoosi collection me kya milega?
Mayoosi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.