یاد ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
Poetry Collection
Mazi
Past may have many avatars—good and bad. But past has memories also that sustain us through all times and help us live a life differently. These verses recreate the moments gone by and help us perceive life as a rich continuity. These verses bring various facets of the past from which we cannot ever disassociate.
Total
46
Sher
19
Ghazal
27
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
ماضیٔ مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ زندگی کی فرصت باقی سے کوئی کام لے
بند کر دے کوئی ماضی کا دریچہ مجھ پر اب اس آئینے میں صورت نہیں دیکھی جاتی
عشق کی ہر داستاں میں ایک ہی نکتہ ملا عشق کا ماضی ہوا کرتا ہے مستقبل نہیں
ہنسی میں کٹتی تھیں راتیں خوشی میں دن گزرتا تھا کنولؔ ماضی کا افسانہ نہ تم بھولے نہ ہم بھولے
کریدتا ہے بہت راکھ میرے ماضی کی میں چوک جاؤں تو وہ انگلیاں جلا لے گا
تمیز خواب و حقیقت ہے شرط بیداری خیال عظمت ماضی کو چھوڑ حال کو دیکھ
ماضی سے ابھریں وہ زندہ تصویریں اتر گیا سب نشہ نئے پرانے کا
ٹہنی پہ خموش اک پرندہ ماضی کے الٹ رہا ہے دفتر
اللہ رے بے خودی کہ چلا جا رہا ہوں میں منزل کو دیکھتا ہوا کچھ سوچتا ہوا
حسرت دل نامکمل ہے کتاب زندگی جوڑ دے ماضی کے سب اوراق مستقبل کے ساتھ
ماضی کے ریگ زار پہ رکھنا سنبھل کے پاؤں بچوں کا اس میں کوئی گھروندا بنا نہ ہو
وہ ماضی جو ہے اک مجموعہ اشکوں اور آہوں کا نہ جانے مجھ کو اس ماضی سے کیوں اتنی محبت ہے
یاد ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
ماضیٔ مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ زندگی کی فرصت باقی سے کوئی کام لے
بند کر دے کوئی ماضی کا دریچہ مجھ پر اب اس آئینے میں صورت نہیں دیکھی جاتی
عشق کی ہر داستاں میں ایک ہی نکتہ ملا عشق کا ماضی ہوا کرتا ہے مستقبل نہیں
وہ ماضی جو ہے اک مجموعہ اشکوں اور آہوں کا نہ جانے مجھ کو اس ماضی سے کیوں اتنی محبت ہے
ہنسی میں کٹتی تھیں راتیں خوشی میں دن گزرتا تھا کنولؔ ماضی کا افسانہ نہ تم بھولے نہ ہم بھولے
کئی نا آشنا چہرے حجابوں سے نکل آئے نئے کردار ماضی کی کتابوں سے نکل آئے
تمیز خواب و حقیقت ہے شرط بیداری خیال عظمت ماضی کو چھوڑ حال کو دیکھ
یاد ماضی کی پراسرار حسیں گلیوں میں میرے ہم راہ ابھی گھوم رہا ہے کوئی
ٹہنی پہ خموش اک پرندہ ماضی کے الٹ رہا ہے دفتر
یہ جو ماضی کی بات کرتے ہیں سوچتے ہوں گے حال سے آگے
حسرت دل نامکمل ہے کتاب زندگی جوڑ دے ماضی کے سب اوراق مستقبل کے ساتھ
ان کو بھولے زمانہ ہوتا ہے اشک آنکھوں میں پھر بھی بھر آئے
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Mazi FAQs
Mazi collection me kya milega?
Mazi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.