Poetry Collection

Mulaqat

The pleasures and pains of meeting have been the favourite concern of poets in all ages. Most often, they have written about the meeting and union of lovers in separation. These verses expose you to the pleasures of meeting which also lead to separation sometimes.

Total

54

Sher

50

Ghazal

4

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی بڑی آرزو تھی ملاقات کی

آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد آج کا دن گزر نہ جائے کہیں

کیسے کہہ دوں کہ ملاقات نہیں ہوتی ہے روز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے

نقشہ اٹھا کے کوئی نیا شہر ڈھونڈیئے اس شہر میں تو سب سے ملاقات ہو گئی

کیا کہوں اس سے کہ جو بات سمجھتا ہی نہیں وہ تو ملنے کو ملاقات سمجھتا ہی نہیں

فرازؔ ترک تعلق تو خیر کیا ہوگا یہی بہت ہے کہ کم کم ملا کرو اس سے

یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے بات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے

یوں سر راہ ملاقات ہوئی ہے اکثر اس نے دیکھا بھی نہیں ہم نے پکارا بھی نہیں

آج تو مل کے بھی جیسے نہ ملے ہوں تجھ سے چونک اٹھتے تھے کبھی تیری ملاقات سے ہم

تجھ سے ملنے کی تمنا بھی بہت ہے لیکن آنے جانے میں کرایہ بھی بہت لگتا ہے

مدتیں گزریں ملاقات ہوئی تھی تم سے پھر کوئی اور نہ آیا نظر آئینے میں

~ Haneef Kaifi

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم

کافی نہیں خطوط کسی بات کے لئے تشریف لائیے گا ملاقات کے لئے

ہزار تلخ ہوں یادیں مگر وہ جب بھی ملے زباں پہ اچھے دنوں کا ہی ذائقہ رکھنا

سنا ہے ایسے بھی ہوتے ہیں لوگ دنیا میں کہ جن سے ملیے تو تنہائی ختم ہوتی ہے

~ Mohammad Iftikhar Shafi

کبھی ملیں گے جو راستے میں تو منہ پھرا کر پلٹ پڑیں گے کہیں سنیں گے جو نام تیرا تو چپ رہیں گے نظر جھکا کے

مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی

نہ اداس ہو نہ ملال کر کسی بات کا نہ خیال کر کئی سال بعد ملے ہیں ہم تیرے نام آج کی شام ہے

ملنا جو نہ ہو تم کو تو کہہ دو نہ ملیں گے یہ کیا کبھی پرسوں ہے کبھی کل ہے کبھی آج

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی بڑی آرزو تھی ملاقات کی

مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی

گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔ قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا

کیسے کہہ دوں کہ ملاقات نہیں ہوتی ہے روز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے

نقشہ اٹھا کے کوئی نیا شہر ڈھونڈیئے اس شہر میں تو سب سے ملاقات ہو گئی

مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا

نہ اداس ہو نہ ملال کر کسی بات کا نہ خیال کر کئی سال بعد ملے ہیں ہم تیرے نام آج کی شام ہے

فرازؔ ترک تعلق تو خیر کیا ہوگا یہی بہت ہے کہ کم کم ملا کرو اس سے

یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے بات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے

یوں سر راہ ملاقات ہوئی ہے اکثر اس نے دیکھا بھی نہیں ہم نے پکارا بھی نہیں

آج تو مل کے بھی جیسے نہ ملے ہوں تجھ سے چونک اٹھتے تھے کبھی تیری ملاقات سے ہم

تجھ سے ملنے کی تمنا بھی بہت ہے لیکن آنے جانے میں کرایہ بھی بہت لگتا ہے

مدتیں گزریں ملاقات ہوئی تھی تم سے پھر کوئی اور نہ آیا نظر آئینے میں

~ Haneef Kaifi

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم

کافی نہیں خطوط کسی بات کے لئے تشریف لائیے گا ملاقات کے لئے

ملنا جو نہ ہو تم کو تو کہہ دو نہ ملیں گے یہ کیا کبھی پرسوں ہے کبھی کل ہے کبھی آج

ہزار تلخ ہوں یادیں مگر وہ جب بھی ملے زباں پہ اچھے دنوں کا ہی ذائقہ رکھنا

سنا ہے ایسے بھی ہوتے ہیں لوگ دنیا میں کہ جن سے ملیے تو تنہائی ختم ہوتی ہے

~ Mohammad Iftikhar Shafi

دن بھی ہے رات بھی ہے صبح بھی ہے شام بھی ہے اتنے وقتوں میں کوئی وقت ملاقات بھی ہے

Explore Similar Collections

Mulaqat FAQs

Mulaqat collection me kya milega?

Mulaqat se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.