مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی
Poetry Collection
Musafir
Travel is a metaphor and a traveler explores that metaphor in multiple ways. In the process, life is unveiled and gives much to the poets to develop upon. A traveler has a destination in mind which may or may not be achieved. Yet, his travelling continues as does life—ceaselessly.
Total
23
Sher
22
Ghazal
1
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا
مسافر ہی مسافر ہر طرف ہیں مگر ہر شخص تنہا جا رہا ہے
وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصرؔ تری گلی تک تو ہم نے دیکھا تھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ
مسافر اپنی منزل پر پہنچ کر چین پاتے ہیں وہ موجیں سر پٹکتی ہیں جنہیں ساحل نہیں ملتا
ہم مسافر ہیں گرد سفر ہیں مگر اے شب ہجر ہم کوئی بچے نہیں جو ابھی آنسوؤں میں نہا کر گئے اور ابھی مسکراتے پلٹ آئیں گے
مسافر ترا ذکر کرتے رہے مہکتا رہا راستہ دیر تک
ذرا رہنے دو اپنے در پہ ہم خانہ بدوشوں کو مسافر جس جگہ آرام پاتے ہیں ٹھہرتے ہیں
ادھر وہ صحرا میں خاک دھنتا ادھر وہ دریا کنارے گم صم عجیب ہوتے ہیں یہ تعلق مسافروں کے مسافروں سے
رستہ بھی ہمی لوگ تھے راہی بھی ہمیں تھے اور اپنی مسافت کی گواہی بھی ہمیں تھے
پلٹ آتا ہوں میں مایوس ہو کر ان مقاموں سے جہاں سے سلسلہ نزدیک تر ہوتا ہے منزل کا
رہ حیات کا میں ایسا اک مسافر تھا کہ جیسے شہر کی سڑکوں سے بس کا رشتہ تھا
کئی سال سے کچھ خبر ہی نہیں کہاں دن گزارا کہاں رات کی
دن میں پریوں کی کوئی کہانی نہ سن جنگلوں میں مسافر بھٹک جائیں گے
اک جام مے کی خاطر پلکوں سے یہ مسافر جاروب کش رہا ہے برسوں در مغاں کا
مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا
مسافر ہی مسافر ہر طرف ہیں مگر ہر شخص تنہا جا رہا ہے
کئی سال سے کچھ خبر ہی نہیں کہاں دن گزارا کہاں رات کی
اے عدم کے مسافرو ہشیار راہ میں زندگی کھڑی ہوگی
مسافر اپنی منزل پر پہنچ کر چین پاتے ہیں وہ موجیں سر پٹکتی ہیں جنہیں ساحل نہیں ملتا
ہم مسافر ہیں گرد سفر ہیں مگر اے شب ہجر ہم کوئی بچے نہیں جو ابھی آنسوؤں میں نہا کر گئے اور ابھی مسکراتے پلٹ آئیں گے
کانٹے بونے والے سچ مچ تو بھی کتنا بھولا ہے جیسے راہی رک جائیں گے تیرے کانٹے بونے سے
ذرا رہنے دو اپنے در پہ ہم خانہ بدوشوں کو مسافر جس جگہ آرام پاتے ہیں ٹھہرتے ہیں
تمہارے ساتھ ہی اس کو بھی ڈوب جانا ہے یہ جانتا ہے مسافر ترے سفینے کا
رستہ بھی ہمی لوگ تھے راہی بھی ہمیں تھے اور اپنی مسافت کی گواہی بھی ہمیں تھے
کچھ ٹوٹے پھٹے سینے کو ساتھ اپنے سفر میں کیا وہ بھی مسافر جو نہ رکھے سوئی تاگا
پلٹ آتا ہوں میں مایوس ہو کر ان مقاموں سے جہاں سے سلسلہ نزدیک تر ہوتا ہے منزل کا
رہ حیات کا میں ایسا اک مسافر تھا کہ جیسے شہر کی سڑکوں سے بس کا رشتہ تھا
قدم بڑھا کہ ابھی دور ہے تری منزل شکست آبلہ پائی ہے خار کی حد تک
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Musafir FAQs
Musafir collection me kya milega?
Musafir se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.