فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے
Poetry Collection
Nigaah
A glance means so much to one who casts it, as well as to the other who receives it. In romantic poetry especially, a glance has a special meaning. Interestingly, all glances are not the same as each glance has its own angle and its own message. We hope that you would appreciate our selection on this subject.
Total
54
Sher
50
Ghazal
4
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا
نگاہیں اس قدر قاتل کہ اف اف ادائیں اس قدر پیاری کہ توبہ
خدا بچائے تری مست مست آنکھوں سے فرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہے
سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں جاتا
ساقی مجھے شراب کی تہمت نہیں پسند مجھ کو تری نگاہ کا الزام چاہیئے
آنکھیں جو اٹھائے تو محبت کا گماں ہو نظروں کو جھکائے تو شکایت سی لگے ہے
نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں
پہلی نظر بھی آپ کی اف کس بلا کی تھی ہم آج تک وہ چوٹ ہیں دل پر لیے ہوئے
محبت کا تم سے اثر کیا کہوں نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا
دیدار کی طلب کے طریقوں سے بے خبر دیدار کی طلب ہے تو پہلے نگاہ مانگ
لوگ نظروں کو بھی پڑھ لیتے ہیں اپنی آنکھوں کو جھکائے رکھنا
آنکھیں نہ جینے دیں گی تری بے وفا مجھے کیوں کھڑکیوں سے جھانک رہی ہے قضا مجھے
اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلو کیا چاہتی ہے ان کی نظر پوچھتے چلو
نگاہ ناز کی پہلی سی برہمی بھی گئی میں دوستی کو ہی روتا تھا دشمنی بھی گئی
بے خود بھی ہیں ہشیار بھی ہیں دیکھنے والے ان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے
برسوں رہے ہیں آپ ہماری نگاہ میں یہ کیا کہا کہ ہم تمہیں پہچانتے نہیں
میں عمر بھر جواب نہیں دے سکا عدمؔ وہ اک نظر میں اتنے سوالات کر گئے
جس طرف اٹھ گئی ہیں آہیں ہیں چشم بد دور کیا نگاہیں ہیں
دیکھی ہیں بڑے غور سے میں نے وہ نگاہیں آنکھوں میں مروت کا کہیں نام نہیں ہے
فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے
کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا
نگاہیں اس قدر قاتل کہ اف اف ادائیں اس قدر پیاری کہ توبہ
خدا بچائے تری مست مست آنکھوں سے فرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہے
سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں جاتا
ساقی مجھے شراب کی تہمت نہیں پسند مجھ کو تری نگاہ کا الزام چاہیئے
آنکھیں جو اٹھائے تو محبت کا گماں ہو نظروں کو جھکائے تو شکایت سی لگے ہے
نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں
پہلی نظر بھی آپ کی اف کس بلا کی تھی ہم آج تک وہ چوٹ ہیں دل پر لیے ہوئے
محبت کا تم سے اثر کیا کہوں نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا
دھوکا تھا نگاہوں کا مگر خوب تھا دھوکا مجھ کو تری نظروں میں محبت نظر آئی
دیدار کی طلب کے طریقوں سے بے خبر دیدار کی طلب ہے تو پہلے نگاہ مانگ
ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے دو زہر کے پیالوں میں قضا کھیل رہی ہے
آنکھیں نہ جینے دیں گی تری بے وفا مجھے کیوں کھڑکیوں سے جھانک رہی ہے قضا مجھے
اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلو کیا چاہتی ہے ان کی نظر پوچھتے چلو
جس طرف اٹھ گئی ہیں آہیں ہیں چشم بد دور کیا نگاہیں ہیں
ادھر ادھر مری آنکھیں تجھے پکارتی ہیں مری نگاہ نہیں ہے زبان ہے گویا
دیکھا ہے کس نگاہ سے تو نے ستم ظریف محسوس ہو رہا ہے میں غرق شراب ہوں
بے خود بھی ہیں ہشیار بھی ہیں دیکھنے والے ان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے
نگاہ ناز کی معصومیت ارے توبہ جو ہم فریب نہ کھاتے تو اور کیا کرتے
Explore Similar Collections
Nigaah FAQs
Nigaah collection me kya milega?
Nigaah se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.