دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
Poetry Collection
Peace
One of the most essential features of poetry is its ability to silently urge people to become better human beings. It helps us to shrug off pessimistic feelings which often develop during the course of our lives. In keeping with the theme of 'peace', we bring to you poetry which can eliminate any feelings of hate, despair and negativity within us. It aims to encourage people to become good citizens and also acts as a guide book for all who strive to make this world a better place. Do read it and spread the message of love and peace further.
Total
42
Sher
40
Ghazal
2
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
مجھے امن سے محبت ہے، مجھے جنگ سے نفرت ہے، مگر مجھے اس جنگ سے بھی امن کی طرح محبت ہے جو انسان اپنی آزادی، اپنی عزت اور ملک کی بقا کے لیے لڑتا ہے۔
ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
سب سے پر امن واقعہ یہ ہے آدمی آدمی کو بھول گیا
سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیا اجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیا
عجیب درد کا رشتہ ہے ساری دنیا میں کہیں ہو جلتا مکاں اپنا گھر لگے ہے مجھے
مجھ میں تھوڑی سی جگہ بھی نہیں نفرت کے لیے میں تو ہر وقت محبت سے بھرا رہتا ہوں
پرواز میں تھا امن کا معصوم پرندہ سنتے ہیں کہ بے چارہ شجر تک نہیں پہنچا
ایک تختی امن کے پیغام کی ٹانگ دیجے اونچے میناروں کے بیچ
امن تھا پیار تھا محبت تھا رنگ تھا نور تھا نوا تھا فراق
امن ہر شخص کی ضرورت ہے اس لئے امن سے محبت ہے
رہے تذکرے امن کے آشتی کے مگر بستیوں پر برستے رہے بم
فضا یہ امن و اماں کی سدا رکھیں قائم سنو یہ فرض تمہارا بھی ہے ہمارا بھی
شہر میں امن و اماں ہو یہ ضروری ہے مگر حاکم وقت کے ماتھے پہ لکھا ہی کچھ ہے
خدائے امن جو کہتا ہے خود کو زمیں پر خود ہی مقتل لکھ رہا ہے
مل کے سب امن و چین سے رہئے لعنتیں بھیجئے فسادوں پر
امن اور آشتی سے اس کو کیا اس کا مقصد تو انتشار میں ہے
امن کیفیؔ ہو نہیں سکتا کبھی جب تلک ظلم و ستم موجود ہے
سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
مجھے امن سے محبت ہے، مجھے جنگ سے نفرت ہے، مگر مجھے اس جنگ سے بھی امن کی طرح محبت ہے جو انسان اپنی آزادی، اپنی عزت اور ملک کی بقا کے لیے لڑتا ہے۔
ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
حفیظؔ اپنی بولی محبت کی بولی نہ اردو نہ ہندی نہ ہندوستانی
سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیا اجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیا
یہ دنیا نفرتوں کے آخری اسٹیج پہ ہے علاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
مجھ میں تھوڑی سی جگہ بھی نہیں نفرت کے لیے میں تو ہر وقت محبت سے بھرا رہتا ہوں
اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے
ایک تختی امن کے پیغام کی ٹانگ دیجے اونچے میناروں کے بیچ
جنگ کا شور بھی کچھ دیر تو تھم سکتا ہے پھر سے اک امن کی افواہ اڑا دی جائے
امن ہر شخص کی ضرورت ہے اس لئے امن سے محبت ہے
سنا ہے امن پرستوں کا وہ علاقہ ہے وہیں شکار کبوتر ہوا تو کیسے ہوا
فضا یہ امن و اماں کی سدا رکھیں قائم سنو یہ فرض تمہارا بھی ہے ہمارا بھی
امن کا قتل ہو گیا جب سے شہر اب بد حواس رہتا ہے
خدائے امن جو کہتا ہے خود کو زمیں پر خود ہی مقتل لکھ رہا ہے
کتنا پر امن ہے ماحول فسادات کے بعد شام کے وقت نکلتا نہیں باہر کوئی
امن اور آشتی سے اس کو کیا اس کا مقصد تو انتشار میں ہے
معصوم ہے معصوم بہت امن کی دیوی قبضہ میں لیے خنجر خوں خار ابھی تک
Explore Similar Collections
Peace FAQs
Peace collection me kya milega?
Peace se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.