فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
Poetry Collection
Raasta
Path, journey, and destination are all inter-related and together they create a complex of meaning. Related with the experience of journey, they unravel the hidden meaning of human existence as human life is itself a journey into the unknown, as much as into the known. You may like to read these verses to discover the pleasures of wayfaring as perceived by Urdu poets.
Total
31
Sher
29
Ghazal
2
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
کاش وہ راستے میں مل جائے مجھ کو منہ پھیر کر گزرنا ہے
کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستو تنہا ہوں آج میں ذرا گھر تک تو ساتھ دو
وہ کیا منزل جہاں سے راستے آگے نکل جائیں سو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا
سفر کا ایک نیا سلسلہ بنانا ہے اب آسمان تلک راستہ بنانا ہے
ہم آپ کو دیکھتے تھے پہلے اب آپ کی راہ دیکھتے ہیں
تو کبھی اس شہر سے ہو کر گزر راستوں کے جال میں الجھا ہوں میں
عجب نہیں کہ یہ دریا نظر کا دھوکا ہو عجب نہیں کہ کوئی راستہ نکل آئے
مسافر ترا ذکر کرتے رہے مہکتا رہا راستہ دیر تک
کوئی رستہ کہیں جائے تو جانیں بدلنے کے لیے رستے بہت ہیں
جو رکاوٹ تھی ہماری راہ کی راستہ نکلا اسی دیوار سے
دلچسپ ہو گئی ترے چلنے سے رہ گزر اٹھ اٹھ کے گرد راہ لپٹتی ہے راہ سے
جہاں تک پاؤں میرے جا سکے ہیں وہیں تک راستہ ٹھہرا ہوا ہے
وہ جس منڈیر پہ چھوڑ آیا اپنی آنکھیں میں چراغ ہوتا تو لو بھول کر چلا جاتا
میں اس کی دھن میں نئے راستے پہ جا نکلی دیار جاں سے مری روز جو گزرتا رہا
اپنے لہو سے پیاس بجھانی ہے تا حیات اب راستے میں کوئی سمندر نہ آئے گا
ہو واپسی اگر تو انہیں راستوں سے ہو جن راستوں سے پیار ترا لے گیا مجھے
قدم بڑھا کہ ابھی دور ہے تری منزل شکست آبلہ پائی ہے خار کی حد تک
پھر اسی قبر کے برابر سے زندہ رہنے کا راستہ نکلا
چپ چپ مکان راستے گم سم نڈھال وقت اس شہر کے لیے کوئی دیوانا چاہئے
فیضؔ تھی راہ سر بسر منزل ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
کاش وہ راستے میں مل جائے مجھ کو منہ پھیر کر گزرنا ہے
کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستو تنہا ہوں آج میں ذرا گھر تک تو ساتھ دو
وہ کیا منزل جہاں سے راستے آگے نکل جائیں سو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا
سفر کا ایک نیا سلسلہ بنانا ہے اب آسمان تلک راستہ بنانا ہے
ہم آپ کو دیکھتے تھے پہلے اب آپ کی راہ دیکھتے ہیں
تو کبھی اس شہر سے ہو کر گزر راستوں کے جال میں الجھا ہوں میں
پھر اسی قبر کے برابر سے زندہ رہنے کا راستہ نکلا
یقیناً رہبر منزل کہیں پر راستا بھولا وگرنہ قافلے کے قافلے گم ہو نہیں سکتے
مسافر ترا ذکر کرتے رہے مہکتا رہا راستہ دیر تک
میں خود ہی اپنے تعاقب میں پھر رہا ہوں ابھی اٹھا کے تو میری راہوں سے راستا لے جا
جو رکاوٹ تھی ہماری راہ کی راستہ نکلا اسی دیوار سے
رستہ بھی ہمی لوگ تھے راہی بھی ہمیں تھے اور اپنی مسافت کی گواہی بھی ہمیں تھے
جہاں تک پاؤں میرے جا سکے ہیں وہیں تک راستہ ٹھہرا ہوا ہے
چپ چپ مکان راستے گم سم نڈھال وقت اس شہر کے لیے کوئی دیوانا چاہئے
مسئلہ یہ ہے اس کے گاؤں کو دوسرا راستہ نہیں جاتا
اپنے لہو سے پیاس بجھانی ہے تا حیات اب راستے میں کوئی سمندر نہ آئے گا
رستوں کے پیچ و خم نے کہیں اور لا دیا جانا ہمیں جہاں تھا یہ منزل نہیں ہے وہ
قدم بڑھا کہ ابھی دور ہے تری منزل شکست آبلہ پائی ہے خار کی حد تک
ہر گزر گاہ تمنا پر بہت سی گرد ہے لیکن اس کو ایک ہی جھونکا اڑا لے جائے گا
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Raasta FAQs
Raasta collection me kya milega?
Raasta se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.