دفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو اور تم چاہو تو افسانہ بنا سکتا ہوں میں
Poetry Collection
Raaz
Mysteries make life meaningful. They become all the more interesting when mysteries concern lovers and beloveds. Many poets have played upon the idea of secret, secret keeping, and its repercussions once revealed. Let us look at some of the verses that play upon the idea of secrecy.
Total
25
Sher
22
Ghazal
3
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
جن کو اپنی خبر نہیں اب تک وہ مرے دل کا راز کیا جانیں
کوئی سمجھے گا کیا راز گلشن جب تک الجھے نہ کانٹوں سے دامن
تیرا ہر راز چھپائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی خود کو دیوانہ بنائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی
اپنا ہی حال تک نہ کھلا مجھ کو تابہ مرگ میں کون ہوں کہاں سے چلا تھا کہاں گیا
کوئی کس طرح راز الفت چھپائے نگاہیں ملیں اور قدم ڈگمگائے
دامن اشکوں سے تر کریں کیوں کر راز کو مشتہر کریں کیوں کر
ہائے وہ راز غم کہ جو اب تک تیرے دل میں مری نگاہ میں ہے
بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک
زبان و دہن سے جو کھلتے نہیں ہیں وہ کھل جاتے ہیں راز اکثر نظر سے
وہ جو اک بات ہے جو تجھ کو بتائی نہ گئی وہ جو اک راز ہے جو کھل نہ سکا وحشت ہے
ہم پہ یہ راز کھلا بھی تو بہت دیر کے بعد اصل کردار کہانی میں کسی اور کا ہے
آنکھوں کے سب موتی دانے آئینے ہیں باطن کے گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے میں بھی سوچوں تو بھی سوچ
کس پہ کھلتے ہیں رات کے اسرار کون یاں شب گزار ہے ایسا
یہ میرے عشق کی مجبوریاں معاذ اللہ تمہارا راز تمہیں سے چھپا رہا ہوں میں
دفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو اور تم چاہو تو افسانہ بنا سکتا ہوں میں
یہ میرے عشق کی مجبوریاں معاذ اللہ تمہارا راز تمہیں سے چھپا رہا ہوں میں
ہر صدا پر لگے ہیں کان یہاں دل سنبھالے رہو زباں کی طرح
کوئی سمجھے گا کیا راز گلشن جب تک الجھے نہ کانٹوں سے دامن
غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا میری طرف بھی غمزۂ غماز دیکھنا
اپنا ہی حال تک نہ کھلا مجھ کو تابہ مرگ میں کون ہوں کہاں سے چلا تھا کہاں گیا
ان سے سب حال دغاباز کہے دیتے ہیں میرے ہم راز مرا راز کہے دیتے ہیں
دامن اشکوں سے تر کریں کیوں کر راز کو مشتہر کریں کیوں کر
میں محبت نہ چھپاؤں تو عداوت نہ چھپا نہ یہی راز میں اب ہے نہ وہی راز میں ہے
بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک
کتنے ہی راز سب پر عیاں ہو گئے اک ترا راز الفت چھپاتے ہوئے
وہ جو اک بات ہے جو تجھ کو بتائی نہ گئی وہ جو اک راز ہے جو کھل نہ سکا وحشت ہے
سکھیوں سے کب سکھیاں اپنے جی کے بھید چھپاتی ہیں ہم سے نہیں تو اس سے کہہ دے کرتا کہاں کلام ہے چاند
آنکھوں کے سب موتی دانے آئینے ہیں باطن کے گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے میں بھی سوچوں تو بھی سوچ
ضبط راز غم پہ سو جانیں بھی کر دیتے نثار کیا بتائیں بس زباں پر ان کا نام آ ہی گیا
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Raaz FAQs
Raaz collection me kya milega?
Raaz se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.