Poetry Collection

Rang

Life is colourful because there are colours around—colours that attract our eyes and colours that beckon our imagination. Poets have used colours in many ways—sometimes as simple colours while at others as metaphors. Here are some examples for you.

Total

57

Sher

46

Ghazal

11

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے

کسی کلی کسی گل میں کسی چمن میں نہیں وہ رنگ ہے ہی نہیں جو ترے بدن میں نہیں

لب نازک کے بوسے لوں تو مسی منہ بناتی ہے کف پا کو اگر چوموں تو مہندی رنگ لاتی ہے

تمہارے رنگ پھیکے پڑ گئے ناں؟ مری آنکھوں کی ویرانی کے آگے

عجب بہار دکھائی لہو کے چھینٹوں نے خزاں کا رنگ بھی رنگ بہار جیسا تھا

سانس لیتا ہوا ہر رنگ نظر آئے گا تم کسی روز مرے رنگ میں آؤ تو سہی

وہ رنگ رنگ کے چھینٹے پڑے کہ اس کے بعد کبھی نہ پھر نئے کپڑے پہن کے نکلا میں

میں دور تھا تو اپنے ہی چہرہ پہ مل لیا اس زندگی کے ہاتھ میں جتنا گلال تھا

تو بھی دیکھے گا ذرا رنگ اتر لیں تیرے ہم ہی رکھتے ہیں تجھے یاد کہ سب رکھتے ہیں

وہ کودتے اچھلتے رنگین پیرہن تھے معصوم قہقہوں میں اڑتا گلال دیکھا

دشت وفا میں جل کے نہ رہ جائیں اپنے دل وہ دھوپ ہے کہ رنگ ہیں کالے پڑے ہوئے

ادھر بھی اک نظر اے جلوۂ رنگین و بیگانہ طلوع ماہ کا ہے منتظر میرا سیہ خانہ

لب دریا پہ دیکھ آ کر تماشا آج ہولی کا بھنور کالے کے دف باجے ہے موج اے یار پانی میں

میں جنہیں دل پہ کھائے پھرتا ہوں ترے حصے کے رنج تھے مولا

اجالوں میں چھپی تھی ایک لڑکی فلک کا رنگ روغن کر گئی ہے

سیکڑوں رنگوں کی بارش ہو چکے گی اس کے بعد عطر میں بھیگی ہوئی شاموں کا منظر آئے گا

تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے

کسی کلی کسی گل میں کسی چمن میں نہیں وہ رنگ ہے ہی نہیں جو ترے بدن میں نہیں

لب نازک کے بوسے لوں تو مسی منہ بناتی ہے کف پا کو اگر چوموں تو مہندی رنگ لاتی ہے

تمہارے رنگ پھیکے پڑ گئے ناں؟ مری آنکھوں کی ویرانی کے آگے

عجب بہار دکھائی لہو کے چھینٹوں نے خزاں کا رنگ بھی رنگ بہار جیسا تھا

وہ آئے تو رنگ سنورنے لگتے ہیں جیسے بچھڑا یار بھی کوئی موسم ہے

سانس لیتا ہوا ہر رنگ نظر آئے گا تم کسی روز مرے رنگ میں آؤ تو سہی

ہزار رنگ بد اماں سہی مگر دنیا بس ایک سلسلۂ اعتبار ہے، کیا ہے

میں دور تھا تو اپنے ہی چہرہ پہ مل لیا اس زندگی کے ہاتھ میں جتنا گلال تھا

سیکڑوں رنگوں کی بارش ہو چکے گی اس کے بعد عطر میں بھیگی ہوئی شاموں کا منظر آئے گا

شب جو ہولی کی ہے ملنے کو ترے مکھڑے سے جان چاند اور تارے لیے پھرتے ہیں افشاں ہاتھ میں

وہ کودتے اچھلتے رنگین پیرہن تھے معصوم قہقہوں میں اڑتا گلال دیکھا

میں نے کچھ رنگ اچھالے تھے ہواؤں میں نبیلؔ اور تصویر تری دھیان سے باہر آئی

کتنی رنگینیوں میں تیری یاد کس قدر سادگی سے آتی ہے

لب دریا پہ دیکھ آ کر تماشا آج ہولی کا بھنور کالے کے دف باجے ہے موج اے یار پانی میں

مصلحت کا یہ کفن رکھتا ہے بے داغ ہمیں اہل ایمان ہیں ہم رنگ سے ڈر لگتا ہے

Explore Similar Collections

Rang FAQs

Rang collection me kya milega?

Rang se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.