Poetry Collection

Raushni

Light and darkness are not merely two words; they are two conditions of life around which much has been written. Poets have found this more fascinating than others. This selection of verses on light would be of interest to you. We hope you would appreciate these.

Total

43

Sher

37

Ghazal

6

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

نہیں ہے میرے مقدر میں روشنی نہ سہی یہ کھڑکی کھولو ذرا صبح کی ہوا ہی لگے

الفت کا ہے مزہ کہ اثرؔ غم بھی ساتھ ہوں تاریکیاں بھی ساتھ رہیں روشنی کے ساتھ

روشندان سے دھوپ کا ٹکڑا آ کر میرے پاس گرا اور پھر سورج نے کوشش کی مجھ سے آنکھ ملانے کی

روشنی مجھ سے گریزاں ہے تو شکوہ بھی نہیں میرے غم خانے میں کچھ ایسا اندھیرا بھی نہیں

روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم تر دیکھنا

دلیل تابش ایماں ہے کفر کا احساس چراغ شام سے پہلے جلا نہیں کرتے

کہیں کوئی چراغ جلتا ہے کچھ نہ کچھ روشنی رہے گی ابھی

ایک سرود روشنی نیمۂ شب کا خواب تھا ایک خموش تیرگی سانحہ آشنا بھی تھی

انگنت سفینوں میں دیپ جگمگاتے ہیں رات نے لٹایا ہے رنگ و نور پانی پر

منظروں سے بہلنا ضروری نہیں گھر سے باہر نکلنا ضروری نہیں دل کو روشن کرو روشنی نے کہا روشنی کے لئے ایک تازہ غزل

گھٹن تو دل کی رہی قصر مرمریں میں بھی نہ روشنی سے ہوا کچھ نہ کچھ ہوا سے ہوا

چاند ہے تیرا ہم سفر کوئی نہیں ہے راہبر آگے قدم بڑھا کے رکھ دور کی روشنی نہ دیکھ

اندھیروں میں رہے پر مانگے کے اجالوں سے گھر اپنا ہم نے کبھی ضو فشاں کیا ہی نہیں

اور اگر ہو نہ سکے کچھ بھی اجالوں کی سبیل اک چراغ اپنے لہو سے ہی جلا دیں ہم لوگ

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

نہیں ہے میرے مقدر میں روشنی نہ سہی یہ کھڑکی کھولو ذرا صبح کی ہوا ہی لگے

الفت کا ہے مزہ کہ اثرؔ غم بھی ساتھ ہوں تاریکیاں بھی ساتھ رہیں روشنی کے ساتھ

روشندان سے دھوپ کا ٹکڑا آ کر میرے پاس گرا اور پھر سورج نے کوشش کی مجھ سے آنکھ ملانے کی

روشنی مجھ سے گریزاں ہے تو شکوہ بھی نہیں میرے غم خانے میں کچھ ایسا اندھیرا بھی نہیں

روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم تر دیکھنا

دلیل تابش ایماں ہے کفر کا احساس چراغ شام سے پہلے جلا نہیں کرتے

کہیں کوئی چراغ جلتا ہے کچھ نہ کچھ روشنی رہے گی ابھی

ایک سرود روشنی نیمۂ شب کا خواب تھا ایک خموش تیرگی سانحہ آشنا بھی تھی

انگنت سفینوں میں دیپ جگمگاتے ہیں رات نے لٹایا ہے رنگ و نور پانی پر

منظروں سے بہلنا ضروری نہیں گھر سے باہر نکلنا ضروری نہیں دل کو روشن کرو روشنی نے کہا روشنی کے لئے ایک تازہ غزل

گھٹن تو دل کی رہی قصر مرمریں میں بھی نہ روشنی سے ہوا کچھ نہ کچھ ہوا سے ہوا

چاند ہے تیرا ہم سفر کوئی نہیں ہے راہبر آگے قدم بڑھا کے رکھ دور کی روشنی نہ دیکھ

دلیل تابش ایماں ہے کفر کا احساس چراغ شام سے پہلے جلا نہیں کرتے

اندھیروں میں رہے پر مانگے کے اجالوں سے گھر اپنا ہم نے کبھی ضو فشاں کیا ہی نہیں

Explore Similar Collections

Raushni FAQs

Raushni collection me kya milega?

Raushni se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.