منظروں سے بہلنا ضروری نہیں گھر سے باہر نکلنا ضروری نہیں دل کو روشن کرو روشنی نے کہا روشنی کے لئے ایک تازہ غزل
Related Sher
شاخوں سے ٹوٹ جائیں حقیقت پتے نہیں ہیں ہم آندھی سے کوئی کہ دے کہ اوقات ہے وہ ہے وہ رہے
Rahat Indori
435 likes
ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
333 likes
مری آنسو نہیں تھم رہے کہ حقیقت مجھ سے جدا ہوں گیا تو اور جاناں کہ رہے ہوں کہ چھوڑو اب ایسا بھی کیا ہوں گیا تو مے کدوں ہے وہ ہے وہ مری لائنیں پیسہ پھرتے ہیں لوگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی پی کر کہا فلسفہ ہوں گیا تو
Tehzeeb Hafi
388 likes
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
Allama Iqbal
354 likes
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا ایک ہی بے وجہ تھا جہان ہے وہ ہے وہ کیا
Jaun Elia
508 likes
More from Irfan Sattar
کسی آہٹ ہے وہ ہے وہ آہٹ کے سوا کچھ بھی نہیں اب کسی صورت ہے وہ ہے وہ صورت کے سوا کیا رہ گیا تو ہے
Irfan Sattar
0 likes
یہ کیسے ملبے کے نیچے دبا دیا گیا تو ہوں مجھے بدن سے نکالو ہے وہ ہے وہ تنگ آ گیا تو ہوں
Irfan Sattar
0 likes
نہیں نہیں ہے وہ ہے وہ بے حد خوش رہا ہوں تری بغیر یقین کر کہ یہ حالت ابھی ابھی ہوئی ہے
Irfan Sattar
0 likes
یہ ہم ہی ہیں کہ کسی کے ا گر ہوئے تو ہوئے تمہارا کیا ہے کوئی ہوگا کوئی تھا کوئی ہے
Irfan Sattar
66 likes
اک چبھن ہے کہ جو بےچین کیے رہتی ہے ایسا لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا تو ہے مجھ ہے وہ ہے وہ
Irfan Sattar
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Irfan Sattar.
Similar Moods
More moods that pair well with Irfan Sattar's sher.







