ابھی رات کچھ ہے باقی نہ اٹھا نقاب ساقی ترا رند گرتے گرتے کہیں پھر سنبھل نہ جائے
Poetry Collection
Rind
Prison house has been used profusely as a metaphor both in classical and modern Urdu poetry. In classical poetry, it was used mostly in a romantic context but in modern poetry it has been used in many more contexts that are social, and even political at times. Have a look at the verses here and see how variously it has been used and with what connotations.
Total
19
Sher
19
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
رند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائے جس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے
ساقی نے نگاہوں سے پلا دی ہے غضب کی رندان ازل دیکھیے کب ہوش میں آئیں
بیٹھتا ہے ہمیشہ رندوں میں کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے
ابھی آتے نہیں اس رند کو آداب مے خانہ جو اپنی تشنگی کو فیض ساقی کی کمی سمجھے
واعظ خطا معاف کہ رندان مے کدہ دل کے سوا کسی کا کہا مانتے نہیں
واعظو چھیڑو نہ رندوں کو بہت یہ سمجھ لو کہ پیے بیٹھے ہیں
رند مشرب کوئی بیخودؔ سا نہ ہوگا واللہ پی کے مسجد ہی میں یہ خانہ خراب آتا ہے
رندوں کو پابندیٔ دنیا کہاں کشتیٔ مے کو نہیں لنگر کی چاہ
ذکر سے رندوں کے واعظ تو ابھی واقف نہیں یہ تو ہو حق کی صدا ہے شور رندانہ نہیں
ہر اک رند کے ہاتھ میں جام جم ہو کچھ اس شان کا میکدہ چاہتا ہوں
یہ رند دے گئے لقمہ تجھے تو عذر نہ مان ترا تو شیخ تنور و شکم برابر ہے
کچھ طرح رندوں نے دی کچھ محتسب بھی دب گیا چھیڑ آپس میں سر بازار ہو کر رہ گئی
ابھی رات کچھ ہے باقی نہ اٹھا نقاب ساقی ترا رند گرتے گرتے کہیں پھر سنبھل نہ جائے
رند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائے جس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے
ساقی نے نگاہوں سے پلا دی ہے غضب کی رندان ازل دیکھیے کب ہوش میں آئیں
بیٹھتا ہے ہمیشہ رندوں میں کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے
ابھی آتے نہیں اس رند کو آداب مے خانہ جو اپنی تشنگی کو فیض ساقی کی کمی سمجھے
واعظ خطا معاف کہ رندان مے کدہ دل کے سوا کسی کا کہا مانتے نہیں
رندوں کو وعظ پند نہ کر فصل گل میں شیخ ایسا نہ ہو شراب اڑے خانقاہ میں
واعظو چھیڑو نہ رندوں کو بہت یہ سمجھ لو کہ پیے بیٹھے ہیں
توبہ کی رندوں میں گنجائش کہاں جب یہ آئے گی نکالی جائے گی
رندوں کو پابندیٔ دنیا کہاں کشتیٔ مے کو نہیں لنگر کی چاہ
کس نے کی ہیں یہ بوتلیں خالی پی گیا کون اپنی تنہائی
ہر اک رند کے ہاتھ میں جام جم ہو کچھ اس شان کا میکدہ چاہتا ہوں
یہ رند دے گئے لقمہ تجھے تو عذر نہ مان ترا تو شیخ تنور و شکم برابر ہے
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Rind FAQs
Rind collection me kya milega?
Rind se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.