Poetry Collection

Rukhsar

Poetry that draws upon the parts of beloved’s body has a romance of its own and creates a unique interest among readers. Here are verses on cheeks, the subject of much interest to lovers and poets alike. This sampler from traditional and modern poetry would hold your interest for the way the different images of the cheek have been treated.

Total

22

Sher

21

Ghazal

1

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

اب میں سمجھا ترے رخسار پہ تل کا مطلب دولت حسن پہ دربان بٹھا رکھا ہے

رخسار یعنی گال، دولتِ حسن یعنی حسن کی دولت، دربان یعنی رکھوالا۔ یہ شعر اپنے مضمون کی ندرت کی وجہ سے زبان زدِ عام ہے۔ شعر میں مرکزی حیثیت ’’رخسار پر تل‘‘ کو حاصل ہے کیونکہ اسی کی مناسبت سے شاعر نے مضمون پیدا کیا ہے۔ محبوب کے رخسار کو دربان(رکھوالا) سے مشابہ کرنا شاعر کا کمال ہے۔ اور جب دولتِ حسن کہا تو گویا محبوب کے سراپا کو آنکھوں کے سامنے لایا۔ رخسار پر تل ہونا حسن کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے۔ مگر چونکہ محبوب پیکرِ جمال ہے اس خوبی کی مناسبت سے شاعر نے یہ خیال باندھا ہے کہ جس طرح بری نظر سے محفوظ رکھنے کے لئے خوبصورت بچوں کے گال پر کالا ٹیکہ لگایا جاتا ہے اسی طرح میرے محبوب کو لوگوں کی بری نظر سے بچانے کے لئے خدا نے اس کے گال پر تل رکھا ہے۔ اور جس طرح مال و دولت کو لٹیروں سے محفوظ رکھنے کے لئے اس پر دربان (رکھوالے)بٹھائے جاتے ہیں بالکل اسی طرح خدا نے میرے محبوب کے حسن کو بری نظر سے محفوظ رکھنے کے لئے اس کے گال پر تل بنایا ہے۔ شفق سوپوری

سو دیکھ کر ترے رخسار و لب یقیں آیا کہ پھول کھلتے ہیں گل زار کے علاوہ بھی

پوچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں

حاجت نہیں بناؤ کی اے نازنیں تجھے زیور ہے سادگی ترے رخسار کے لیے

چاہتا ہے اس جہاں میں گر بہشت جا تماشا دیکھ اس رخسار کا

اس کے رخسار دیکھ جیتا ہوں عارضی میری زندگانی ہے

عارضوں پر یہ ڈھلکتے ہوئے آنسو توبہ ہم نے شعلوں پہ مچلتی ہوئی شبنم دیکھی

جو ان کو لپٹا کے گال چوما حیا سے آنے لگا پسینہ ہوئی ہے بوسوں کی گرم بھٹی کھنچے نہ کیوں کر شراب عارض

جانے کس دم نکل آئے ترے رخسار کی دھوپ مدتوں دھیان ترے سایۂ در پر رکھا

ترے رخسار سے بے طرح لپٹی جائے ہے ظالم جو کچھ کہیے تو بل کھا الجھتی ہے زلف بے ڈھنگی

یہ لب و رخسار یہ چہرا تیرا پر نور سا تجھ کو کیا دیکھا لگا جیسے کوئی دیکھی غزل

دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا ہے مطالعہ مطلع انوار کا

اب میں سمجھا ترے رخسار پہ تل کا مطلب دولت حسن پہ دربان بٹھا رکھا ہے

رخسار یعنی گال، دولتِ حسن یعنی حسن کی دولت، دربان یعنی رکھوالا۔ یہ شعر اپنے مضمون کی ندرت کی وجہ سے زبان زدِ عام ہے۔ شعر میں مرکزی حیثیت ’’رخسار پر تل‘‘ کو حاصل ہے کیونکہ اسی کی مناسبت سے شاعر نے مضمون پیدا کیا ہے۔ محبوب کے رخسار کو دربان(رکھوالا) سے مشابہ کرنا شاعر کا کمال ہے۔ اور جب دولتِ حسن کہا تو گویا محبوب کے سراپا کو آنکھوں کے سامنے لایا۔ رخسار پر تل ہونا حسن کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے۔ مگر چونکہ محبوب پیکرِ جمال ہے اس خوبی کی مناسبت سے شاعر نے یہ خیال باندھا ہے کہ جس طرح بری نظر سے محفوظ رکھنے کے لئے خوبصورت بچوں کے گال پر کالا ٹیکہ لگایا جاتا ہے اسی طرح میرے محبوب کو لوگوں کی بری نظر سے بچانے کے لئے خدا نے اس کے گال پر تل رکھا ہے۔ اور جس طرح مال و دولت کو لٹیروں سے محفوظ رکھنے کے لئے اس پر دربان (رکھوالے)بٹھائے جاتے ہیں بالکل اسی طرح خدا نے میرے محبوب کے حسن کو بری نظر سے محفوظ رکھنے کے لئے اس کے گال پر تل بنایا ہے۔ شفق سوپوری

سو دیکھ کر ترے رخسار و لب یقیں آیا کہ پھول کھلتے ہیں گل زار کے علاوہ بھی

پوچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں

حاجت نہیں بناؤ کی اے نازنیں تجھے زیور ہے سادگی ترے رخسار کے لیے

چاہتا ہے اس جہاں میں گر بہشت جا تماشا دیکھ اس رخسار کا

اس کے رخسار دیکھ جیتا ہوں عارضی میری زندگانی ہے

عارضوں پر یہ ڈھلکتے ہوئے آنسو توبہ ہم نے شعلوں پہ مچلتی ہوئی شبنم دیکھی

جو ان کو لپٹا کے گال چوما حیا سے آنے لگا پسینہ ہوئی ہے بوسوں کی گرم بھٹی کھنچے نہ کیوں کر شراب عارض

دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا ہے مطالعہ مطلع انوار کا

جانے کس دم نکل آئے ترے رخسار کی دھوپ مدتوں دھیان ترے سایۂ در پر رکھا

ترے رخسار سے بے طرح لپٹی جائے ہے ظالم جو کچھ کہیے تو بل کھا الجھتی ہے زلف بے ڈھنگی

یہ لب و رخسار یہ چہرا تیرا پر نور سا تجھ کو کیا دیکھا لگا جیسے کوئی دیکھی غزل

You have reached the end.

Explore Similar Collections

Rukhsar FAQs

Rukhsar collection me kya milega?

Rukhsar se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.