Poetry Collection

Ruswai

Shers in this category have had a context in love poetry. There are many occasions when lovers have to cut a sorry figure and face embarrassment. Urdu poets have exploited this idea a great deal. Here are some examples.

Total

54

Sher

50

Ghazal

4

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

اذیت مصیبت ملامت بلائیں ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا

خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن تجھ سے ملنا تھا کہ پر لگ گئے رسوائی کو

رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئے حق بات لب پہ آئی تو ہم بے ہنر ہوئے

اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے

کیا ملا تم کو مرے عشق کا چرچا کر کے تم بھی رسوا ہوئے آخر مجھے رسوا کر کے

ہمارے عشق میں رسوا ہوئے تم مگر ہم تو تماشا ہو گئے ہیں

کوئی تہمت ہو مرے نام چلی آتی ہے جیسے بازار میں ہر گھر سے گلی آتی ہے

کس قدر بد نامیاں ہیں میرے ساتھ کیا بتاؤں کس قدر تنہا ہوں میں

دفعتاً ترک تعلق میں بھی رسوائی ہے الجھے دامن کو چھڑاتے نہیں جھٹکا دے کر

مجھے مسکرا مسکرا کر نہ دیکھو مرے ساتھ تم بھی ہو رسوائیوں میں

جس جگہ بیٹھے مرا چرچا کیا خود ہوئے رسوا مجھے رسوا کیا

میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے

اب تو دروازے سے اپنے نام کی تختی اتار لفظ ننگے ہو گئے شہرت بھی گالی ہو گئی

اہل ہوس تو خیر ہوس میں ہوئے ذلیل وہ بھی ہوئے خراب، محبت جنہوں نے کی

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

اذیت مصیبت ملامت بلائیں ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا

خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن تجھ سے ملنا تھا کہ پر لگ گئے رسوائی کو

اہل ہوس تو خیر ہوس میں ہوئے ذلیل وہ بھی ہوئے خراب، محبت جنہوں نے کی

میری رسوائی کے اسباب ہیں میرے اندر آدمی ہوں سو بہت خواب ہیں میرے اندر

بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

ہمارے عشق میں رسوا ہوئے تم مگر ہم تو تماشا ہو گئے ہیں

یادوں کی بوچھاروں سے جب پلکیں بھیگنے لگتی ہیں سوندھی سوندھی لگتی ہے تب ماضی کی رسوائی بھی

کس قدر بد نامیاں ہیں میرے ساتھ کیا بتاؤں کس قدر تنہا ہوں میں

لوگ کہتے ہیں کہ بد نامی سے بچنا چاہیئے کہہ دو بے اس کے جوانی کا مزا ملتا نہیں

قمرؔ ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائی چلے ہو چاندنی شب میں انہیں بلانے کو

جس جگہ بیٹھے مرا چرچا کیا خود ہوئے رسوا مجھے رسوا کیا

ہر چند تجھے صبر نہیں درد ولیکن اتنا بھی نہ ملیو کہ وہ بدنام بہت ہو

میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے

اب تو دروازے سے اپنے نام کی تختی اتار لفظ ننگے ہو گئے شہرت بھی گالی ہو گئی

Explore Similar Collections

Ruswai FAQs

Ruswai collection me kya milega?

Ruswai se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.