کر رہا تھا غم جہاں کا حساب آج تم یاد بے حساب آئے
Poetry Collection
Sad
Sadness is a season of human existence. Life is punctuated by sadness off and on. In classical poetry, sadness has most often been the result of disappointment in love. But there are many other shades of sadness as well. In reality, sadness is an integral part of living that helps us known life in full. Some verses that express various conditions are collected here for your perusal. You may like to have a look.
Total
100
Sher
50
Ghazal
50
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا
ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو کیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
کسی کے تم ہو کسی کا خدا ہے دنیا میں مرے نصیب میں تم بھی نہیں خدا بھی نہیں
ہمارے گھر کا پتا پوچھنے سے کیا حاصل اداسیوں کی کوئی شہریت نہیں ہوتی
اس نے پوچھا تھا کیا حال ہے اور میں سوچتا رہ گیا
میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں
مجھ سے نفرت ہے اگر اس کو تو اظہار کرے کب میں کہتا ہوں مجھے پیار ہی کرتا جائے
غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے
عشق میں کون بتا سکتا ہے کس نے کس سے سچ بولا ہے
کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوست سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا
میں ہوں دل ہے تنہائی ہے تم بھی ہوتے اچھا ہوتا
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
چند کلیاں نشاط کی چن کر مدتوں محو یاس رہتا ہوں تیرا ملنا خوشی کی بات سہی تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں
نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں اک ایسی راہ پہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں
جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا
ہم غم زدہ ہیں لائیں کہاں سے خوشی کے گیت دیں گے وہی جو پائیں گے اس زندگی سے ہم
ابھی نہ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب ابھی حیات کا ماحول خوش گوار نہیں
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب آج تم یاد بے حساب آئے
شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا
ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو کیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا
خدا کی اتنی بڑی کائنات میں میں نے بس ایک شخص کو مانگا مجھے وہی نہ ملا
کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوست سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا
ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں دل ہمیشہ اداس رہتا ہے
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
چند کلیاں نشاط کی چن کر مدتوں محو یاس رہتا ہوں تیرا ملنا خوشی کی بات سہی تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں
اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے
کسی کے تم ہو کسی کا خدا ہے دنیا میں مرے نصیب میں تم بھی نہیں خدا بھی نہیں
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ اداسی بال کھولے سو رہی ہے
وہی کارواں، وہی راستے وہی زندگی وہی مرحلے مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی تم نہیں کبھی ہم نہیں
ہمارے گھر کا پتا پوچھنے سے کیا حاصل اداسیوں کی کوئی شہریت نہیں ہوتی
ابھی نہ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب ابھی حیات کا ماحول خوش گوار نہیں
اس نے پوچھا تھا کیا حال ہے اور میں سوچتا رہ گیا
جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا شکیلؔ مجھ کو اپنے دل ناکام پہ رونا آیا
میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں
کوئی خودکشی کی طرف چل دیا اداسی کی محنت ٹھکانے لگی
غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے
Explore Similar Collections
Sad FAQs
Sad collection me kya milega?
Sad se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.