Poetry Collection

Sawal

Questions are quite often more important than answers. Answers bring all explorations to an end while questions keep them alive. There are questions and questions all around us. Poets and philosophers have raised questions to make life more meaningful and worth living. Here, you have a fine selection on the theme of question. They will help you raise questions, even interrogate, if you will.

Total

87

Sher

37

Ghazal

50

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو

غم مجھے دیتے ہو اوروں کی خوشی کے واسطے کیوں برے بنتے ہو تم ناحق کسی کے واسطے

کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

کیوں پرکھتے ہو سوالوں سے جوابوں کو عدیمؔ ہونٹ اچھے ہوں تو سمجھو کہ سوال اچھا ہے

زندگی اک سوال ہے جس کا جواب موت ہے موت بھی اک سوال ہے جس کا جواب کچھ نہیں

سوال کر کے میں خود ہی بہت پشیماں ہوں جواب دے کے مجھے اور شرمسار نہ کر

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

پتھرو آج مرے سر پہ برستے کیوں ہو میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خدا رکھا ہے

سوال یہ ہے کہ آپس میں ہم ملیں کیسے ہمیشہ ساتھ تو چلتے ہیں دو کنارے بھی

سر محشر یہی پوچھوں گا خدا سے پہلے تو نے روکا بھی تھا بندے کو خطا سے پہلے

وہ تھے جواب کے ساحل پہ منتظر لیکن سمے کی ناؤ میں میرا سوال ڈوب گیا

جی چاہتا ہے پھر کوئی تجھ سے کروں سوال تیری نہیں نہیں نے غضب کا مزا دیا

جواب آئے نہ آئے سوال اٹھا تو سہی پھر اس سوال میں پہلو نئے سوال کے رکھ

اس سے بہتر جواب کیا ہوگا کھو گیا وہ مرے سوالوں میں

بہت سی باتیں زباں سے کہی نہیں جاتیں سوال کر کے اسے دیکھنا ضروری ہے

جواب سوچ کے وہ دل میں مسکراتے ہیں ابھی زبان پہ میری سوال بھی تو نہ تھا

جو چاہئے سو مانگیے اللہ سے امیرؔ اس در پہ آبرو نہیں جاتی سوال سے

ہم کیا کریں سوال یہ سوچا نہیں ابھی وہ کیا جواب دیں گے یہ دھڑکا ابھی سے ہے

زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو

غم مجھے دیتے ہو اوروں کی خوشی کے واسطے کیوں برے بنتے ہو تم ناحق کسی کے واسطے

کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

کیوں پرکھتے ہو سوالوں سے جوابوں کو عدیمؔ ہونٹ اچھے ہوں تو سمجھو کہ سوال اچھا ہے

زندگی اک سوال ہے جس کا جواب موت ہے موت بھی اک سوال ہے جس کا جواب کچھ نہیں

دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں

سوال کر کے میں خود ہی بہت پشیماں ہوں جواب دے کے مجھے اور شرمسار نہ کر

پتھرو آج مرے سر پہ برستے کیوں ہو میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خدا رکھا ہے

کبھی کبھی تو یہ دل میں سوال اٹھتا ہے کہ اس جدائی میں کیا اس نے پا لیا ہوگا

سر محشر یہی پوچھوں گا خدا سے پہلے تو نے روکا بھی تھا بندے کو خطا سے پہلے

جی چاہتا ہے پھر کوئی تجھ سے کروں سوال تیری نہیں نہیں نے غضب کا مزا دیا

جواز کوئی اگر میری بندگی کا نہیں میں پوچھتا ہوں تجھے کیا ملا خدا ہو کر

اس سے بہتر جواب کیا ہوگا کھو گیا وہ مرے سوالوں میں

عجیب طرفہ تماشا ہے میرے عہد کے لوگ سوال کرنے سے پہلے جواب مانگتے ہیں

جواب سوچ کے وہ دل میں مسکراتے ہیں ابھی زبان پہ میری سوال بھی تو نہ تھا

سوال وصل پر کچھ سوچ کر اس نے کہا مجھ سے ابھی وعدہ تو کر سکتے نہیں ہیں ہم مگر دیکھو

Explore Similar Collections

Sawal FAQs

Sawal collection me kya milega?

Sawal se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.