Poetry Collection

Shahr

City is a physical space; it is also a metaphor of suffering as well as of aspirations and achievements. It is a place where dreams are nurtured as well as scattered and spoiled. City has been treated variously in the poetry of both the East and the West. The modern poets, however, have executed the images of city more frequently than others. Here are some images of the city as visualized by Urdu poets.

Total

47

Sher

41

Ghazal

6

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے

دل تو میرا اداس ہے ناصرؔ شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی مرے کسانوں نے شہروں میں نوکری کر لی

سنا ہے شہر کا نقشہ بدل گیا محفوظؔ تو چل کے ہم بھی ذرا اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

اک اور کھیت پکی سڑک نے نگل لیا اک اور گاؤں شہر کی وسعت میں کھو گیا

دوستو تم سے گزارش ہے یہاں مت آؤ اس بڑے شہر میں تنہائی بھی مر جاتی ہے

ایسا ہنگامہ نہ تھا جنگل میں شہر میں آئے تو ڈر لگتا تھا

شہر کا بھی دستور وہی جنگل والا کھوجنے والے ہی اکثر کھو جاتے ہیں

اب شہر آرزو میں وہ رعنائیاں کہاں ہیں گل کدے نڈھال بڑی تیز دھوپ ہے

یہ دل فریب چراغاں یہ قہقہوں کے ہجوم میں ڈر رہا ہوں اب اس شہر سے گزرتے ہوئے

عزمؔ اس شہر میں اب ایسی کوئی آنکھ نہیں گرنے والے کو یہاں جس نے سنبھلتے دیکھا

مجنوں سے یہ کہنا کہ مرے شہر میں آ جائے وحشت کے لیے ایک بیابان ابھی ہے

حسیں ہے شہر تو عجلت میں کیوں گزر جائیں جنون شوق اسے بھی نہال کر جائیں

آپ مظلوم کے اشکوں سے نہ کھلواڑ کریں یہ وہ دریا ہیں جو شہروں کو نگل سکتے ہیں

~ Mukhtar Tilhari

اک پل کو بھی سکون نہ حاصل ہوا وہاں شہروں سے اچھا گاؤں کا چھپر لگا مجھے

گزرا تھا اپنے شہر سے راون فساد کا ظالم محبتوں کی کتھائیں بھی لے گیا

آپ کے شہر میں سورج تو نکلنے سے رہا ایک مشعل ہی مرے ہات میں رہنے دیجے

~ Sagheer Riyaz

آج پھر ٹوٹیں گی تیرے گھر کی نازک کھڑکیاں آج پھر دیکھا گیا دیوانہ تیرے شہر میں

اے مظفر کس لئے بھوپال یاد آنے لگا کیا سمجھتے تھے کہ دلی میں نہ ہوگا آسماں

تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے

دل تو میرا اداس ہے ناصرؔ شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

جو میرے گاؤں کے کھیتوں میں بھوک اگنے لگی مرے کسانوں نے شہروں میں نوکری کر لی

سنا ہے شہر کا نقشہ بدل گیا محفوظؔ تو چل کے ہم بھی ذرا اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

اک اور کھیت پکی سڑک نے نگل لیا اک اور گاؤں شہر کی وسعت میں کھو گیا

دوستو تم سے گزارش ہے یہاں مت آؤ اس بڑے شہر میں تنہائی بھی مر جاتی ہے

ایسا ہنگامہ نہ تھا جنگل میں شہر میں آئے تو ڈر لگتا تھا

شہر کا بھی دستور وہی جنگل والا کھوجنے والے ہی اکثر کھو جاتے ہیں

اب شہر آرزو میں وہ رعنائیاں کہاں ہیں گل کدے نڈھال بڑی تیز دھوپ ہے

یہ دل فریب چراغاں یہ قہقہوں کے ہجوم میں ڈر رہا ہوں اب اس شہر سے گزرتے ہوئے

عزمؔ اس شہر میں اب ایسی کوئی آنکھ نہیں گرنے والے کو یہاں جس نے سنبھلتے دیکھا

مجنوں سے یہ کہنا کہ مرے شہر میں آ جائے وحشت کے لیے ایک بیابان ابھی ہے

حسیں ہے شہر تو عجلت میں کیوں گزر جائیں جنون شوق اسے بھی نہال کر جائیں

چپ چپ مکان راستے گم سم نڈھال وقت اس شہر کے لیے کوئی دیوانا چاہئے

آپ مظلوم کے اشکوں سے نہ کھلواڑ کریں یہ وہ دریا ہیں جو شہروں کو نگل سکتے ہیں

~ Mukhtar Tilhari

شہر در شہر یہ خاک و خوں کی فضا سوچی سمجھی ہوئی ایک تحریک ہے اونچے محلوں میں بیٹھے رہے اہل زر مفلسوں کے مکانات جلتے رہے

~ Hami Gorakhpuri

گزرا تھا اپنے شہر سے راون فساد کا ظالم محبتوں کی کتھائیں بھی لے گیا

آپ کے شہر میں سورج تو نکلنے سے رہا ایک مشعل ہی مرے ہات میں رہنے دیجے

~ Sagheer Riyaz

علاج دل کے لئے اور اب کہاں جائیں تمہارے شہر میں سب کچھ ملا دوا کے سوا

~ Zabt Ansari

Explore Similar Collections

Shahr FAQs

Shahr collection me kya milega?

Shahr se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.