جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی
Top 20 Sher Series
Shayari of Amjad Islam Amjad
Shayari of Amjad Islam Amjad ek clean reading flow me, writer aur full-detail links ke saath.
Total
20
Sher
20
Featured Picks
Series se pehle kuch standout sher padhein.
چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن
بڑے سکون سے ڈوبے تھے ڈوبنے والے جو ساحلوں پہ کھڑے تھے بہت پکارے بھی
لکھا تھا ایک تختی پر کوئی بھی پھول مت توڑے مگر آندھی تو ان پڑھ تھی سو جب وہ باغ سے گزری کوئی اکھڑا کوئی ٹوٹا خزاں کے آخری دن تھے
کس قدر یادیں ابھر آئی ہیں تیرے نام سے ایک پتھر پھینکنے سے پڑ گئے کتنے بھنور
ہر سمندر کا ایک ساحل ہے ہجر کی رات کا کنارا نہیں
ایک نظر دیکھا تھا اس نے آگے یاد نہیں کھل جاتی ہے دریا کی اوقات سمندر میں
حادثہ بھی ہونے میں وقت کچھ تو لیتا ہے بخت کے بگڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
بے ثمر پیڑوں کو چومیں گے صبا کے سبز لب دیکھ لینا یہ خزاں بے دست و پا رہ جائے گی
کمال حسن ہے حسن کمال سے باہر ازل کا رنگ ہے جیسے مثال سے باہر
یہ جو سائے سے بھٹکتے ہیں ہمارے ارد گرد چھو کے ان کو دیکھیے تو واہمہ کوئی نہیں
آنکھ بھی اپنی سراب آلود ہے اور اس دریا میں پانی بھی نہیں
فضا میں تیرتے رہتے ہیں نقش سے کیا کیا مجھے تلاش نہ کرتی ہوں یہ بلائیں کہیں
نہ اس کا انت ہے کوئی نہ استعارہ ہے یہ داستان ہے ہجر و وصال سے باہر
جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی
چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن
بڑے سکون سے ڈوبے تھے ڈوبنے والے جو ساحلوں پہ کھڑے تھے بہت پکارے بھی
لکھا تھا ایک تختی پر کوئی بھی پھول مت توڑے مگر آندھی تو ان پڑھ تھی سو جب وہ باغ سے گزری کوئی اکھڑا کوئی ٹوٹا خزاں کے آخری دن تھے
کس قدر یادیں ابھر آئی ہیں تیرے نام سے ایک پتھر پھینکنے سے پڑ گئے کتنے بھنور
ہر سمندر کا ایک ساحل ہے ہجر کی رات کا کنارا نہیں
ایک نظر دیکھا تھا اس نے آگے یاد نہیں کھل جاتی ہے دریا کی اوقات سمندر میں
حادثہ بھی ہونے میں وقت کچھ تو لیتا ہے بخت کے بگڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
بے ثمر پیڑوں کو چومیں گے صبا کے سبز لب دیکھ لینا یہ خزاں بے دست و پا رہ جائے گی
کمال حسن ہے حسن کمال سے باہر ازل کا رنگ ہے جیسے مثال سے باہر
یہ جو سائے سے بھٹکتے ہیں ہمارے ارد گرد چھو کے ان کو دیکھیے تو واہمہ کوئی نہیں
آنکھ بھی اپنی سراب آلود ہے اور اس دریا میں پانی بھی نہیں
فضا میں تیرتے رہتے ہیں نقش سے کیا کیا مجھے تلاش نہ کرتی ہوں یہ بلائیں کہیں
نہ اس کا انت ہے کوئی نہ استعارہ ہے یہ داستان ہے ہجر و وصال سے باہر
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Shayari of Amjad Islam Amjad FAQs
Amjad Islam Amjad Top 20 me kya milega?
Amjad Islam Amjad ke selected sher readable cards, internal detail links, aur writer discovery ke saath milenge.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.