دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا
Poetry Collection
Delhi
A city is a physical space and also a metaphor. All cities have had a history and a character of their own. They are the citadels of hope but also instill fear. Poets have used the idea and image of city in different ways. While the earlier poets saw kindness in cities, the new poets, see cruelty in them. Here are a few variations on the image of city.
Total
28
Sher
26
Ghazal
2
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
دل کی بستی پرانی دلی ہے جو بھی گزرا ہے اس نے لوٹا ہے
چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے جو دل کا حال ہے وہی دلی کا حال ہے
اے وائے انقلاب زمانے کے جور سے دلی ظفرؔ کے ہاتھ سے پل میں نکل گئی
جناب کیفؔ یہ دلی ہے میرؔ و غالبؔ کی یہاں کسی کی طرف داریاں نہیں چلتیں
دلی چھٹی تھی پہلے اب لکھنؤ بھی چھوڑیں دو شہر تھے یہ اپنے دونوں تباہ نکلے
لیلیٰ گھر میں سلائی کرنے لگی قیس دلی میں کام کرنے لگا
اے صبا میں بھی تھا آشفتہ سروں میں یکتا پوچھنا دلی کی گلیوں سے مرا نام کبھی
کیوں متاع دل کے لٹ جانے کا کوئی غم کرے شہر دلی میں تو ایسے واقعے ہوتے رہے
دل ربا تجھ سا جو دل لینے میں عیاری کرے پھر کوئی دلی میں کیا دل کی خبرداری کرے
ہمیں ہیں موجب باب فصاحت حضرت شاعرؔ زمانہ سیکھتا ہے ہم سے ہم وہ دلی والے ہیں
ارض دکن میں جان تو دلی میں دل بنی اور شہر لکھنؤ میں حنا بن گئی غزل
دل لگی کے واسطے دہلی میں ہے مٹیا محل کون جاوے خاک اڑانے ملک بیکانیر کو
امیر زادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انہیں کی دولت سے
مرثیے دل کے کئی کہہ کے دئیے لوگوں کو شہر دلی میں ہے سب پاس نشانی اس کی
دلی ہوئی ہے ویراں سونے کھنڈر پڑے ہیں ویران ہیں محلے سنسان گھر پڑے ہیں
اے مظفر کس لئے بھوپال یاد آنے لگا کیا سمجھتے تھے کہ دلی میں نہ ہوگا آسماں
یوں بھی دلی میں لوگ رہتے ہیں جیسے دیوان میر چاک شدہ
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا
دل کی بستی پرانی دلی ہے جو بھی گزرا ہے اس نے لوٹا ہے
امیر زادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انہیں کی دولت سے
چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے جو دل کا حال ہے وہی دلی کا حال ہے
اے وائے انقلاب زمانے کے جور سے دلی ظفرؔ کے ہاتھ سے پل میں نکل گئی
دلی کہاں گئیں ترے کوچوں کی رونقیں گلیوں سے سر جھکا کے گزرنے لگا ہوں میں
دلی چھٹی تھی پہلے اب لکھنؤ بھی چھوڑیں دو شہر تھے یہ اپنے دونوں تباہ نکلے
دلی میں اپنا تھا جو کچھ اسباب رہ گیا اک دل کو لے کے آئے ہیں اس سرزمیں سے ہم
اے صبا میں بھی تھا آشفتہ سروں میں یکتا پوچھنا دلی کی گلیوں سے مرا نام کبھی
تذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ نہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز
کیوں متاع دل کے لٹ جانے کا کوئی غم کرے شہر دلی میں تو ایسے واقعے ہوتے رہے
دل ربا تجھ سا جو دل لینے میں عیاری کرے پھر کوئی دلی میں کیا دل کی خبرداری کرے
دل مرا جلوۂ عارض نے بہلنے نہ دیا چاندنی چوک سے زخمی کو نکلنے نہ دیا
ہمیں ہیں موجب باب فصاحت حضرت شاعرؔ زمانہ سیکھتا ہے ہم سے ہم وہ دلی والے ہیں
دلی پہ رونا آتا ہے کرتا ہوں جب نگاہ میں اس کہن خرابے کی تعمیر کی طرف
کچھ بھی ہوں دلی کے کوچے تجھ بن مجھ کو گھر کاٹے گا
دل لگی کے واسطے دہلی میں ہے مٹیا محل کون جاوے خاک اڑانے ملک بیکانیر کو
یوں بھی دلی میں لوگ رہتے ہیں جیسے دیوان میر چاک شدہ
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Delhi FAQs
Delhi collection me kya milega?
Delhi se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.