Poetry Collection

Sher

Poetry has many forms and genres. It also defines and re-defines itself in each age. Every language has its own kinds of poetry and poetics. Here are some examples that tell you something important about Urdu poetry and poetics.

Total

46

Sher

44

Ghazal

2

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

غزل کا شعر تو ہوتا ہے بس کسی کے لیے مگر ستم ہے کہ سب کو سنانا پڑتا ہے

بندش الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں شاعری بھی کام ہے آتشؔ مرصع ساز کا

چھپی ہے ان گنت چنگاریاں لفظوں کے دامن میں ذرا پڑھنا غزل کی یہ کتاب آہستہ آہستہ

اپنے لہجے کی حفاظت کیجئے شعر ہو جاتے ہیں نامعلوم بھی

ڈائری میں سارے اچھے شعر چن کر لکھ لیے ایک لڑکی نے مرا دیوان خالی کر دیا

کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعر اس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں

یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی نشانیاں یہ سبھی تجھ پہ وارنا ہوں گی

سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنا یہ زندگی ہے ہماری سنبھال کر رکھنا

میرا ہر شعر ہے اک راز حقیقت بیخودؔ میں ہوں اردو کا نظیریؔ مجھے تو کیا سمجھا

راہ مضمون تازہ بند نہیں تا قیامت کھلا ہے باب سخن

ہم سے پوچھو کہ غزل کیا ہے غزل کا فن کیا چند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے

وہی رہ جاتے ہیں زبانوں پر شعر جو انتخاب ہوتے ہیں

سو شعر ایک جلسے میں کہتے تھے ہم امیرؔ جب تک نہ شعر کہنے کا ہم کو شعور تھا

زندگی بھر کی کمائی یہی مصرعے دو چار اس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنے والی

ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔ کھلا کہ فائدہ عرض ہنر میں خاک نہیں

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

ہم سے پوچھو کہ غزل کیا ہے غزل کا فن کیا چند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے

غزل کا شعر تو ہوتا ہے بس کسی کے لیے مگر ستم ہے کہ سب کو سنانا پڑتا ہے

شاعر کو مست کرتی ہے تعریف شعر امیرؔ سو بوتلوں کا نشہ ہے اس واہ واہ میں

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی اک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی

چھپی ہے ان گنت چنگاریاں لفظوں کے دامن میں ذرا پڑھنا غزل کی یہ کتاب آہستہ آہستہ

ہزاروں شعر میرے سو گئے کاغذ کی قبروں میں عجب ماں ہوں کوئی بچہ مرا زندہ نہیں رہتا

ڈائری میں سارے اچھے شعر چن کر لکھ لیے ایک لڑکی نے مرا دیوان خالی کر دیا

لوگ کہتے ہیں کہ فن شاعری منحوس ہے شعر کہتے کہتے میں ڈپٹی کلکٹر ہو گیا

کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعر اس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں

یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی نشانیاں یہ سبھی تجھ پہ وارنا ہوں گی

سادہ سمجھو نہ انہیں رہنے دو دیواں میں امیرؔ یہی اشعار زبانوں پہ ہیں رہنے والے

زندگی بھر کی کمائی یہی مصرعے دو چار اس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنے والی

شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فرازؔ یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے یوں ہے

سخن میں سہل نہیں جاں نکال کر رکھنا یہ زندگی ہے ہماری سنبھال کر رکھنا

میرا ہر شعر ہے اک راز حقیقت بیخودؔ میں ہوں اردو کا نظیریؔ مجھے تو کیا سمجھا

شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں کم نظر روشنی سے ڈرتے ہیں

Explore Similar Collections

Sher FAQs

Sher collection me kya milega?

Sher se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.