دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
Poetry Collection
Ummeed
We live because there is always a hope around. Life may be tough but this toughness is softened because we see, or try to see, some rays of hope even in the clouds that hang low and heavy. It applies to all of us including the lovers who would perish if left in lurch without hope of union. You may be interested in looking at these verses.
Total
66
Sher
47
Ghazal
19
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ
مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائے کوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے
شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گے یہ دن اگر برے ہیں تو اچھے بھی آئیں گے
اتنا بھی ناامید دل کم نظر نہ ہو ممکن نہیں کہ شام الم کی سحر نہ ہو
ناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کر آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے
آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا
میں اب کسی کی بھی امید توڑ سکتا ہوں مجھے کسی پہ بھی اب کوئی اعتبار نہیں
خواب، امید، تمنائیں، تعلق، رشتے جان لے لیتے ہیں آخر یہ سہارے سارے
کہتے ہیں کہ امید پہ جیتا ہے زمانہ وہ کیا کرے جس کو کوئی امید نہیں ہو
امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا
اب رات کی دیوار کو ڈھانا ہے ضروری یہ کام مگر مجھ سے اکیلے نہیں ہوگا
کس سے امید کریں کوئی علاج دل کی چارہ گر بھی تو بہت درد کا مارا نکلا
تم کہاں وصل کہاں وصل کی امید کہاں دل کے بہکانے کو اک بات بنا رکھی ہے
بس اب تو دامن دل چھوڑ دو بیکار امیدو بہت دکھ سہہ لیے میں نے بہت دن جی لیا میں نے
رکھ نہ آنسو سے وصل کی امید کھارے پانی سے دال گلتی نہیں
مجھ کو اوروں سے کچھ نہیں ہے کام تجھ سے ہر دم امیدواری ہے
موجوں کی سیاست سے مایوس نہ ہو فانیؔ گرداب کی ہر تہہ میں ساحل نظر آتا ہے
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ
مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائے کوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے
شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گے یہ دن اگر برے ہیں تو اچھے بھی آئیں گے
اتنا بھی ناامید دل کم نظر نہ ہو ممکن نہیں کہ شام الم کی سحر نہ ہو
ناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کر آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے
آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا
میں اب کسی کی بھی امید توڑ سکتا ہوں مجھے کسی پہ بھی اب کوئی اعتبار نہیں
خواب، امید، تمنائیں، تعلق، رشتے جان لے لیتے ہیں آخر یہ سہارے سارے
کہتے ہیں کہ امید پہ جیتا ہے زمانہ وہ کیا کرے جس کو کوئی امید نہیں ہو
موجوں کی سیاست سے مایوس نہ ہو فانیؔ گرداب کی ہر تہہ میں ساحل نظر آتا ہے
امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا
وہ امید کیا جس کی ہو انتہا وہ وعدہ نہیں جو وفا ہو گیا
کس سے امید کریں کوئی علاج دل کی چارہ گر بھی تو بہت درد کا مارا نکلا
تم کہاں وصل کہاں وصل کی امید کہاں دل کے بہکانے کو اک بات بنا رکھی ہے
بچھڑ کے تجھ سے مجھے ہے امید ملنے کی سنا ہے روح کو آنا ہے پھر بدن کی طرف
رکھ نہ آنسو سے وصل کی امید کھارے پانی سے دال گلتی نہیں
انقلاب صبح کی کچھ کم نہیں یہ بھی دلیل پتھروں کو دے رہے ہیں آئنے کھل کر جواب
Explore Similar Collections
Ummeed FAQs
Ummeed collection me kya milega?
Ummeed se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.