ہمیں اپنے قلم سے روزی کمانا ہے اور ہم اس ذریعے سے روزی کما کر رہیں گے۔ یہ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ ہم اور ہمارے بال بچے فاقے مریں اور جن اخباروں اور رسالوں میں ہمارے مضامین چھپتے ہیں، ان کے مالک خوشحال رہیں۔
Poetry Collection
Writer
Writer par curated selection jahan sher, ghazal aur nazm ko readable format me discover kiya ja sakta hai.
Total
10
Sher
10
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
عمل مزاح اپنے لہو میں تپ کر نکھرنے کا نام ہے۔
آخر کب تک ادیب ایک ناکارہ آدمی سمجھا جائے گا۔ کب تک شاعر کو ایک گپیں ہانکنے والا متصور کیا جائے گا، کب تک ہمارے لٹریچر پر چند خود غرض اور ہوس پرست لوگوں کی حکمرانی رہے گی۔ کب تک؟
ادب کی رونق ہمارے دم سے ہے۔ ان لوگوں کے دم سے نہیں ہے جن کے پاس چھاپنے کی مشینیں، سیاہی اور ان گنت کاغذ ہیں۔ لٹریچر کا دیا ہمارے ہی دماغ کے روغن سے جلتا ہے۔
اچھے طنز نگار تنے ہوئے رسے پر اترا اترا کر کرتب نہیں دکھاتے بلکہ ’رقص یہ لوگ کیا کرتے ہیں تلواروں پر‘
ہندی ہندوستانی اور اردو ہندی کے قضیے سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں۔ ہم اپنی محنت کے دام چاہتے ہیں۔ مضمون نویسی ہمارا پیشہ ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اس کے ذریعے سے زندہ رہنے کا مطالبہ نہ کریں۔ جو پرچے، جو رسالے، جو اخبار ہماری تحریروں کے دام ادا نہیں کر سکتے بالکل بند ہو جانے چاہئیں۔
سب سے بڑی شکایت مجھے ان ادیبوں، شاعروں اور افسانہ نگاروں سے ہے جو اخباروں اور رسالوں میں بغیر معاوضے کے مضمون بھیجتے ہیں۔ وہ کیوں اس چیز کو پالتے ہیں جو ایک کھیل بھی ان کے منہ میں نہیں ڈالتی۔ وہ کیوں ایسا کام کرتے ہیں جس سے ان کو ذاتی فائدہ نہیں پہنچتا۔ وہ کیوں ان کاغذوں پر نقش و نگار بناتے ہیں جو ان کے لئے کفن کا کام بھی نہیں دے سکتے۔
ہمیں اپنے قلم سے روزی کمانا ہے اور ہم اس ذریعے سے روزی کما کر رہیں گے۔ یہ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ ہم اور ہمارے بال بچے فاقے مریں اور جن اخباروں اور رسالوں میں ہمارے مضامین چھپتے ہیں، ان کے مالک خوشحال رہیں۔
آخر کب تک ادیب ایک ناکارہ آدمی سمجھا جائے گا۔ کب تک شاعر کو ایک گپیں ہانکنے والا متصور کیا جائے گا، کب تک ہمارے لٹریچر پر چند خود غرض اور ہوس پرست لوگوں کی حکمرانی رہے گی۔ کب تک؟
ادب کی رونق ہمارے دم سے ہے۔ ان لوگوں کے دم سے نہیں ہے جن کے پاس چھاپنے کی مشینیں، سیاہی اور ان گنت کاغذ ہیں۔ لٹریچر کا دیا ہمارے ہی دماغ کے روغن سے جلتا ہے۔
زبان اور ادب کی خدمت ہو سکتی ہے صرف ادیبوں اور زبان دانوں کی حوصلہ افزائی سے اور حوصلہ افزائی صرف ان کی محنت کا معاوضہ ادا کرنے ہی سے ہو سکتی ہے۔
ہندی ہندوستانی اور اردو ہندی کے قضیے سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں۔ ہم اپنی محنت کے دام چاہتے ہیں۔ مضمون نویسی ہمارا پیشہ ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اس کے ذریعے سے زندہ رہنے کا مطالبہ نہ کریں۔ جو پرچے، جو رسالے، جو اخبار ہماری تحریروں کے دام ادا نہیں کر سکتے بالکل بند ہو جانے چاہئیں۔
سچی خوشی ہمیشہ لکھنے سے ہوتی ہے۔ میں ہر نئی تخلیق پر بچوں کی طرح خوش ہو جاتا ہوں۔
سب سے بڑی شکایت مجھے ان ادیبوں، شاعروں اور افسانہ نگاروں سے ہے جو اخباروں اور رسالوں میں بغیر معاوضے کے مضمون بھیجتے ہیں۔ وہ کیوں اس چیز کو پالتے ہیں جو ایک کھیل بھی ان کے منہ میں نہیں ڈالتی۔ وہ کیوں ایسا کام کرتے ہیں جس سے ان کو ذاتی فائدہ نہیں پہنچتا۔ وہ کیوں ان کاغذوں پر نقش و نگار بناتے ہیں جو ان کے لئے کفن کا کام بھی نہیں دے سکتے۔
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Writer FAQs
Writer collection me kya milega?
Writer se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.