आबाद रहेंगे वीराने शादाब रहेंगी ज़ंजीरें जब तक दीवाने ज़िंदा हैं फूलेंगी फलेंगी ज़ंजीरें आज़ादी का दरवाज़ा भी ख़ुद ही खोलेंगी ज़ंजीरें टुकड़े टुकड़े हो जाएँगी जब हद से बढ़ेंगी ज़ंजीरें जब सब के लब सिल जाएँगे हाथों से क़लम छिन जाएँगे बातिल से लोहा लेने का एलान करेंगी ज़ंजीरें अंधों बहरों की नगरी में यूँँ कौन तवज्जोह करता है माहौल सुनेगा देखेगा जिस वक़्त बजेंगी ज़ंजीरें जो ज़ंजीरों से बाहर हैं आज़ाद उन्हें भी मत समझो जब हाथ कटेंगे ज़ालिम के उस वक़्त कटेंगी ज़ंजीरें ज़ंजीरें तो कट जाएँगी हाँ उन के निशाँ रह जाएँगे मेरा क्या है ज़ालिम तुझ को बदनाम करेंगी ज़ंजीरें ये दौर भी हैं सय्यादी के ये ढंग भी हैं जल्लादी के सिमटेगी सिकुड़ेंगी ज़ंजीरें फैलेंगी फलेंगी ज़ंजीरें ले दे के 'हफ़ीज़' उन सेे ही थी उम्मीद-ए-वफ़ा दीवानों को क्या होगा जब दीवानों से नाता तोड़ेंगी ज़ंजीरें
Related Ghazal
پورا دکھ اور آدھا چاند ہجر کی شب اور ایسا چاند دن ہے وہ ہے وہ وحشت بہل گئی رات ہوئی اور نکلا چاند کس مقتل سے گزرا ہوگا اتنا سہما سہما چاند یادوں کی آباد گلی ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھوم رہا ہے تنہا چاند میری کروٹ پر جاگ اٹھے نیند کا کتنا تکبر چاند میرے منہ کو کس حیرت سے دیکھ رہا ہے بھولا چاند اتنے گھنے بادل کے پیچھے کتنا تنہا ہوگا چاند آنسو روکے نور نہائے دل دریا تن صحرا چاند اتنے روشن چہرے پر بھی سورج کا ہے سایہ چاند جب پانی ہے وہ ہے وہ چہرہ دیکھا تو نے کس کو سوچا چاند برگد کی اک شاخ ہٹا کر جانے کس کو جھانکا چاند بادل کے ریشم جھولے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھور سمے تک سویا چاند رات کے شانے پر سر رکھے دیکھ رہا ہے سپنا چاند سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر شبنم تھی یا نہنہ چاند ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگا اس کا کا کی صورت ہجر کا چاند صحرا صحرا بھٹک رہا ہے اپنے عشق ہے وہ ہے وہ سچا چاند رات کے شاید ایک بجے ہیں سوتا ہوگا میرا چاند
Parveen Shakir
6 likes
جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ جاناں ہوں اے جان جہاں یہ کوئی جاناں سا ہے کہ جاناں ہوں یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایہ ہے کہ جاناں ہوں اس کا کا دید کی ساعت ہے وہ ہے وہ کئی رنگ ہیں لرزاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ جاناں ہوں دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری دیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ جاناں ہوں یہ عمر گریزاں کہیں ٹھہرے تو یہ جانوں ہر سانس ہے وہ ہے وہ مجھ کو یہی لگتا ہے کہ جاناں ہوں ہر بزم ہے وہ ہے وہ موضوع سخن دل زدگاں کا اب کون ہے شیریں ہے کہ لیلیٰ ہے کہ جاناں ہوں اک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ ہے وہ ہے وہ ہوں اک موج ہے وہ ہے وہ آیا ہوا دریا ہے کہ جاناں ہوں حقیقت وقت نہ آئی کہ دل زار بھی اپائے اس کا کا شہر ہے وہ ہے وہ تنہا کوئی ہم سا ہے کہ جاناں ہوں آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں مقتل یہ رسم ابھی شہر ہے وہ ہے وہ زندہ ہے کہ جاناں ہوں اے جان فراز اتنی بھی توفیق کسے تھی ہم کو چارہ زندگی بھی بے شرط ہے کہ جاناں ہوں
Ahmad Faraz
10 likes
سو رہیں گے کے جاگتے رہیں گے ہم تری خواب دیکھتے رہیں گے تو کہی اور ہی ڈھونڈتا رہےگا ہم کہی اور ہی کھلے رہیں گے راہگیروں نے راہ بدلنی ہے پیڑ اپنی جگہ کھڑے رہیں گے سبھی موسم ہے دسترسی ہے وہ ہے وہ تیری تو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے لوٹنا کب ہے تو نے پر تجھ کو عادتن ہی پکارتے رہیں گے تجھ کو پانے ہے وہ ہے وہ مسئلہ یہ ہے تجھ کو کھونے کے رلا رہیں گے تو ادھر دیکھ مجھ سے باتیں کر یار چشمے تو پھوٹتے رہیں گے ایک مدت ہوئی ہے تجھ سے ملے تو تو کہتا تھا رابطے رہیں گے
Tehzeeb Hafi
91 likes
سارے کا سارا تو میرا بھی نہیں اور حقیقت بے وجہ بےوفا بھی نہیں غور سے دیکھنے پہ بولی ہے شا گرا سے پہلے سوچنا بھی نہیں اچھی صحت کا ہے میرا محبوب دھوکے دیتے ہوئے تھکا بھی نہیں جتنا برباد کر دیا تو نے اتنا آباد تو ہے وہ ہے وہ تھا بھی نہیں مجھ کو ب سے اتنا دین آتا ہے ج ہاں ہے وہ ہے وہ خود نہیں خدا بھی نہیں
Kushal Dauneria
43 likes
مری کاروبار ہے وہ ہے وہ سب نے بڑی امداد کی داد لوگوں کی گلہ اپنا غزل استاد کی اپنی سانسیں بیچ کر ہے وہ ہے وہ نے جسے آباد کی حقیقت گلی جنت تو اب بھی ہے م گر شداد کی عمر بھر چلتے رہے آنکھوں پہ پٹی باندھ کر زندگی کو ڈھونڈنے ہے وہ ہے وہ زندگی برباد کی داستانو کے سبھی کردار کم ہونے لگے آج کاغذ چنتی پھرتی ہے پری بغداد کی اک سلگتا چیختا ماحول ہے اور کچھ نہیں بات کرتے ہوں یکتا ک سے امین آباد کی
Rahat Indori
18 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hafeez Merathi.
Similar Moods
More moods that pair well with Hafeez Merathi's ghazal.







