آئی ہے کچھ لگ پوچھ خوشگوار ک ہاں ک ہاں اف لے گئی ہے مجھ کو محبت ک ہاں ک ہاں بےتابی و سکون کی ہوئیں منزلیں تمام بہلائیں تجھ سے چھوٹ کے طبیعت ک ہاں ک ہاں فرقت ہوں یا وصال وہی اضطراب ہے تیرا اثر ہے اے غم فرقت ک ہاں ک ہاں ہر جنبش نگاہ ہے وہ ہے وہ سد کیف بے خو گرا بھرتی پھریگی حسن کی نیت ک ہاں ک ہاں راہ طلب ہے وہ ہے وہ چھوڑ دیا دل کا ساتھ بھی پھرتے لیے ہوئے یہ مصیبت ک ہاں ک ہاں دل کے افق تک اب تو ہیں پرچھائیاں تری لے جائے اب تو دیکھ یہ وحشت ک ہاں ک ہاں اے نرگ سے سیاہ بتا دے تری نثار ک سے ک سے کو ہے یہ ہوش یہ غفلت ک ہاں ک ہاں نیرنگ عشق کی ہے کوئی انتہا کہ یہ یہ غم ک ہاں ک ہاں یہ مسرت ک ہاں ک ہاں بیگانگی پر ا سے کی زمانے سے احتراز در پردہ ا سے ادا کی شکایت ک ہاں ک ہاں فرق آ گیا تو تھا دور حیات و ممات ہے وہ ہے وہ ہے وہ آئی ہے آج یاد حقیقت صورت ک ہاں ک ہاں چنو فنا بقا ہے وہ ہے وہ بھی کوئی کمی سی ہوں مجھ کو پڑی ہے تیری ضرورت ک ہاں ک ہاں دنیا سے اے دل اتنی طبیعت بھری لگ تھی تری لیے اٹھ
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
More from Firaq Gorakhpuri
کچھ لگ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے ا سے کا الزام ت غافل پہ کچھ انکار تو ہے ہر فریب غم دنیا سے خبر دار تو ہے تیرا دیوا لگ کسی کام ہے وہ ہے وہ ہوشیار تو ہے دیکھ لیتے ہیں سبھی کچھ تری مشتاق جمال خیر دیدار لگ ہوں حسرت دیدار تو ہے معرکے سر ہوں اسی برق نظر سے اے حسن یہ چمکتی ہوئی ہوئی چلتی ہوئی تلوار تو ہے سر پٹکتا کو خیال در و دیوار ہے م گر رک رک کر تری وحشی کو شکوہ بے جا تو ہے عشق کا سکھلاتی بھی لگ بے کار گیا تو لگ صحیح جور م گر جور کا اقرار تو ہے تجھ سے ہمت تو پڑی عشق کو کچھ کہنے کی خیر شکوہ لگ صحیح شکر کا اظہار تو ہے ا سے ہے وہ ہے وہ بھی سکھلاتی رابطہ خاص کی ملتی ہے جھلک خیر اقرار محبت لگ ہوں انکار تو ہے کیوں جھپک جاتی ہے رہ رہ کے تری برق نگاہ یہ جھجک ک سے لیے اک کشتی دیدار تو ہے کئی عنوان ہیں ممنون کرم کرنے کے عشق ہے وہ ہے وہ کچھ لگ صحیح زندگی بے کار تو ہے سحر و شام سر انجمن ناز لگ ہوں جلوہ حسن تو ہے عشق سیاہکار تو ہے چونک اٹھتے ہیں فراق آتے ہی ا سے شوخ کا نام کچھ سراسیمگی عشق کا ا
Firaq Gorakhpuri
1 likes
हाथ आए तो वही दामन-ए-जानाँ हो जाए छूट जाए तो वही अपना गरेबाँ हो जाए इश्क़ अब भी है वो महरम-ए-बे-गाना-नुमा हुस्न यूँँ लाख छुपे लाख नुमायाँ हो जाए होश-ओ-ग़फ़लत से बहुत दूर है कैफ़िय्यत-ए-इश्क़ उस की हर बे-ख़बरी मंज़िल-ए-इरफ़ाँ हो जाए याद आती है जब अपनी तो तड़प जाता हूँ मेरी हस्ती तिरा भूला हवा पैमाँ हो जाए आँख वो है जो तिरी जल्वा-गह-ए-नाज़ बने दिल वही है जो सरापा तिरा अरमाँ हो जाए पाक-बाज़ान-ए-मोहब्बत में जो बेबाकी है हुस्न गर उस को समझ ले तो पशेमाँ हो जाए सहल हो कर हुई दुश्वार मोहब्बत तेरी उसे मुश्किल जो बना लें तो कुछ आसाँ हो जाए इश्क़ फिर इश्क़ है जिस रूप में जिस भेस में हो इशरत-ए-वस्ल बने या ग़म-ए-हिज्राँ हो जाए कुछ मुदावा भी हो मजरूह दिलों का ऐ दोस्त मरहम-ए-ज़ख़्म तिरा जौर-पशेमाँ हो जाए ये भी सच है कोई उल्फ़त में परेशाँ क्यूँँ हो ये भी सच है कोई क्यूँँकर न परेशाँ हो जाए इश्क़ को अर्ज़-ए-तमन्ना में भी लाखों पस-ओ-पेश हुस्न के वास्ते इनकार भी आसाँ हो जाए झिलमिलाती है सर-ए-बज़्म-ए-जहाँ शम्अ-ए-ख़ुदी जो ये बुझ जाए चराग़-ए-रह-ए-इरफ़ाँ हो जाए सर-ए-शोरीदा दिया दश्त-ओ-बयाबाँ भी दिए ये मिरी ख़ूबी-ए-क़िस्मत कि वो ज़िंदाँ हो जाए उक़्दा-ए-इश्क़ अजब उक़्दा-ए-मोहमल है 'फ़िराक़' कभी ला-हल कभी मुश्किल कभी आसाँ हो जाए
Firaq Gorakhpuri
1 likes
آج بھی قافلہ عشق رواں ہے کہ جو تھا وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا پھروں ترا غم وہی رسوا ج ہاں ہے کہ جو تھا پھروں فسا لگ بحدیث دگراں ہے کہ جو تھا منزلیں گرد کے مانند اڑی جاتی ہیں وہی انداز جہان گزرں ہے کہ جو تھا کرنےوالے و نور ہے وہ ہے وہ کچھ بھی لگ محبت کو ملا آج تک ایک دھندلکے کا سماں ہے کہ جو تھا یوں تو ا سے دور ہے وہ ہے وہ بے کیف سی ہے بزم حیات ایک ہنگامہ سر رتل گراں ہے کہ جو تھا لاکھ کر جور و ستم لاکھ کر احسان و کرم تجھ پہ اے دوست وہی وہم و گماں ہے کہ جو تھا آج پھروں عشق دو عالم سے جدا ہوتا ہے آستینوں ہے وہ ہے وہ لیے کون و مکان ہے کہ جو تھا عشق افسردہ نہیں آج بھی افسردہ بے حد وہی کم کم اثر سوز لگ ہاں ہے کہ جو تھا نظر آ جاتے ہیں جاناں کو تو بے حد چھوؤں گا بال دل میرا کیا وہی اے شیشہ گراں ہے کہ جو تھا جان دے بیٹھے تھے اک بار ہوں سے والے بھی پھروں وہی مرحلہ سود و زیاں ہے کہ جو تھا آج بھی صید گہ عشق ہے وہ ہے وہ حسن سفاک لیے ابرو کی لچکتی سی کماں ہے کہ جو تھا پھروں تری چشم سخن س
Firaq Gorakhpuri
1 likes
حقیقت چپ چاپ آنسو بہانے کی راتیں حقیقت اک بے وجہ کے یاد آنے کی راتیں شب ماہ کی حقیقت ٹھنڈی آنچیں حقیقت شبنم تری حسن کے رسمسانے کی راتیں جوانی کی دوشیزگی کا تبسم گل زار کے حقیقت کھلانے کی راتیں فوارے سی ن غموں کی پڑتی ہوں چنو کچھ ا سے لب کے سمے جواری کی راتیں مجھے یاد ہے تیری ہر صبح رخصت مجھے یاد ہیں تری آنے کی راتیں پر اسرار سی مری عرض تمنا حقیقت کچھ زیر لب مسکرانے کی راتیں سر شام سے رتجگا کے حقیقت سامان حقیقت پچھلے پہر نیند آنے کی راتیں سر شام سے سٹاکے قرب جاناں لگ جانے حقیقت تھیں ک سے زمانے کی راتیں سر مے کدہ تشنہ لبی کی حقیقت ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ساقی سے باتیں بنانے کی راتیں ہم آغوشیاں شاہد مہرباں کی زمانے کے غم بھول جانے کی راتیں فراق اپنی قسمت ہے وہ ہے وہ شاید نہیں تھے ٹھکانے کے دن یا ٹھکانے کی راتیں
Firaq Gorakhpuri
3 likes
سمے غروب آج کرامات ہوں گئی زلفوں کو ا سے نے کھول دیا رات ہوں گئی کل تک تو ا سے ہے وہ ہے وہ ایسی کرامت لگ تھی کوئی حقیقت آنکھ آج جام مے عیش ہوں گئی اے سوز عشق تو نے مجھے کیا بنا دیا مری ہر ایک سان سے ستم شعار ہوں گئی اوچھی نگاہ ڈال کے اک سمت رکھ دیا دل کیا دیا غریب کی سوغات ہوں گئی کچھ یاد آ گئی تھی حقیقت زلف شکن شکن ہستی تمام چشمہ ظلمات ہوں گئی اہل وطن سے دور جدائی ہے وہ ہے وہ یار کی دل پامال آ گیا تو فراق کرامات ہوں گئی
Firaq Gorakhpuri
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Firaq Gorakhpuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Firaq Gorakhpuri's ghazal.







