aaj ro kar to dikhae koi aisa rona yaad kar ai dil-e-khamosh vo apna rona raqs karna kabhi khvabon ke shabistanon men kabhi yadon ke sutunon se lipatna rona tujh se sikhe koi rone ka saliqa ai abr kahin qatra na girana kahin dariya rona rasm-e-duniya bhi vahi rah-e-tamanna bhi vahi vahi mil baith ke hansna vahi tanha rona ye tira taur samajh men nahin aaya 'mushtaq' kabhi hanste chale jaana kabhi itna rona aaj ro kar to dikhae koi aisa rona yaad kar ai dil-e-khamosh wo apna rona raqs karna kabhi khwabon ke shabistanon mein kabhi yaadon ke sutunon se lipatna rona tujh se sikhe koi rone ka saliqa ai abr kahin qatra na girana kahin dariya rona rasm-e-duniya bhi wahi rah-e-tamanna bhi wahi wahi mil baith ke hansna wahi tanha rona ye tera taur samajh mein nahin aaya 'mushtaq' kabhi hanste chale jaana kabhi itna rona
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Ahmad Mushtaq
اب لگ بہل سکےگا دل اب لگ دیے جلائیے عشق و ہوں سے ہیں سب فریب آپ سے کیا چھپائیے ا سے نے کہا کہ یاد ہیں رنگ طلوع عشق کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ چھوڑیے اب ا نہیں بھول جائیے کیسے نفی سے تھے مکان صاف تھا کتنا آ سماں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ حقیقت سماں آج ک ہاں سے لائیے کچھ تو سراغ مل سکے موسم درد ہجر کا سنگ جمال یار پر نقش کوئی بنائیے کوئی شرر نہیں بچا پچھلے بر سے کی راکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم نفساں شعلہ خو آگ نئی جلائیے
Ahmad Mushtaq
0 likes
شبنم کو ریت پھول کو کانٹا بنا دیا ہم نے تو اپنے باغ کو صحرا بنا دیا ا سے اونچ نیچ پر تو ٹھہرتے نہیں تھے پاؤں ک سے دست شوق نے اسے دنیا بنا دیا کن مٹھیوں نے بیج ناری زمین پر کن بارشوں نے ا سے کو تماشا بنا دیا سیراب کر دیا تری موج خرام نے رکھا ج ہاں قدم و ہاں دریا بنا دیا اک رات چاندنی مری بستر پہ آئی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے قبائیں کر ترا چہرہ بنا دیا پوچھے ا گر کوئی تو اسے کیا بتاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کیا تھا تری غم نے اسے کیا بنا دیا
Ahmad Mushtaq
0 likes
کھڑے ہیں دل ہے وہ ہے وہ جو برگ و ثمر لگائے ہوئے تمہارے ہاتھ کے ہیں یہ شجر لگائے ہوئے بے حد ادا سے ہوں جاناں اور ہے وہ ہے وہ بھی بیٹھا ہوں گئے دنوں کی کمر تراش سے کمر تراش لگائے ہوئے ابھی سپاہ ستم خیمہ زن ہے چار طرف ابھی پڑے رہو زنجیر در لگائے ہوئے ک ہاں ک ہاں لگ گئے عالم خیال ہے وہ ہے وہ ہم نظر کسی کے در و بام پر لگائے ہوئے حقیقت شب کو چیر کے سورج نکال بھی لائے ہم آج تک ہیں امید سحر لگائے ہوئے دلوں کی آگ جلاؤ کہ ایک عمر ہوئی صدا نال دود و شرر لگائے ہوئے
Ahmad Mushtaq
0 likes
شام غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں کب حقیقت رخصت ہوئے کب رات ڈھلی یاد نہیں دل سے بہتے ہوئے پانی کی صدا گزری تھی کب دھندلکا ہوا کب ناو چلی یاد نہیں ٹھنڈے موسم ہے وہ ہے وہ پکارا کوئی ہم آتے ہیں ج سے ہے وہ ہے وہ ہم کھیل رہے تھے حقیقت گلی یاد نہیں ان مضافات ہے وہ ہے وہ چھپ چھپ کے ہوا چلتی تھی کیسے مصروف تھی محبت کی کلی یاد نہیں جسم و جاں ڈوب گئے خواب فراموشی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کوئی بات بری ہوں کہ بھلی یاد نہیں
Ahmad Mushtaq
0 likes
ک سے جھٹپٹے کے رنگ اجالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے ٹکڑے شفق کے دھوپ سے گالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے افسردگی کی لے بھی تری قہق ہوں ہے وہ ہے وہ تھی پت جھڑ کے سر بہار کے جھالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے اڑ کر ک ہاں ک ہاں سے پرندوں کے بندھو نادیدہ پانیوں کے خیالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے حسن تمام تھے تو کوئی دیکھتا لگ تھا جاناں درد بن کے دیکھنے والوں ہے وہ ہے وہ آ گئے کانٹے سمجھ کے گھا سے پہ چلتا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ قطرے تمام او سے کے چھالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے کچھ رت جگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی کچھ خواب تھے جو مری خیالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے
Ahmad Mushtaq
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Mushtaq.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Mushtaq's ghazal.







