ک سے جھٹپٹے کے رنگ اجالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے ٹکڑے شفق کے دھوپ سے گالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے افسردگی کی لے بھی تری قہق ہوں ہے وہ ہے وہ تھی پت جھڑ کے سر بہار کے جھالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے اڑ کر ک ہاں ک ہاں سے پرندوں کے بندھو نادیدہ پانیوں کے خیالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے حسن تمام تھے تو کوئی دیکھتا لگ تھا جاناں درد بن کے دیکھنے والوں ہے وہ ہے وہ آ گئے کانٹے سمجھ کے گھا سے پہ چلتا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ قطرے تمام او سے کے چھالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے کچھ رت جگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی کچھ خواب تھے جو مری خیالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے
Related Ghazal
مہینوں بعد دفترون آ رہے ہیں ہم ایک صدمے سے باہر آ رہے ہیں تیری با ہوں سے دل اکتا گیا تو ہیں اب ا سے جھولے ہے وہ ہے وہ چکر آ رہے ہیں ک ہاں سویا ہے چوکیدار میرا یہ کیسے لوگ اندر آ رہے ہیں سمندر کر چکا تسلیم ہم کو خزانے خود ہی اوپر آ رہے ہیں یہی ایک دن بچا تھا دیکھنے کو اسے ب سے ہے وہ ہے وہ بٹھا کر آ رہے ہیں
Tehzeeb Hafi
116 likes
نہیں تھا اپنا م گر پھروں بھی اپنا اپنا لگا کسی سے مل کے بے حد دیر بعد اچھا لگا تمہیں لگا تھا ہے وہ ہے وہ مر جاؤں گا تمہارے بغیر بتاؤ پھروں تمہیں میرا مزاق کیسا لگا تجوریوں پہ نظر اور لوگ رکھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آسمان چرا لوں گا جب بھی موقع لگا مہ لقا ہے بھری الماریاں بڑے دل سے بتاتی ہے کہ محبت ہے وہ ہے وہ کس کا کتنا لگا
Tehzeeb Hafi
94 likes
سو رہیں گے کے جاگتے رہیں گے ہم تری خواب دیکھتے رہیں گے تو کہی اور ہی ڈھونڈتا رہےگا ہم کہی اور ہی کھلے رہیں گے راہگیروں نے راہ بدلنی ہے پیڑ اپنی جگہ کھڑے رہیں گے سبھی موسم ہے دسترسی ہے وہ ہے وہ تیری تو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے لوٹنا کب ہے تو نے پر تجھ کو عادتن ہی پکارتے رہیں گے تجھ کو پانے ہے وہ ہے وہ مسئلہ یہ ہے تجھ کو کھونے کے رلا رہیں گے تو ادھر دیکھ مجھ سے باتیں کر یار چشمے تو پھوٹتے رہیں گے ایک مدت ہوئی ہے تجھ سے ملے تو تو کہتا تھا رابطے رہیں گے
Tehzeeb Hafi
91 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
More from Ahmad Mushtaq
हाथ से नापता हूँ दर्द की गहराई को ये नया खेल मिला है मेरी तन्हाई को था जो सीने में चराग़-ए-दिल-पुर-ख़ूँ न रहा चाटिए बैठ के अब सब्र-ओ-शकेबाई को दिल-ए-अफ़सुर्दा किसी तरह बहलता ही नहीं क्या करें आप की इस हौसला-अफ़ज़ाई को ख़ैर बदनाम तो पहले भी बहुत थे लेकिन तुझ से मिलना था कि पर लग गए रुस्वाई को निगह-ए-नाज़ न मिलते हुए घबरा हम से हम मोहब्बत नहीं कहने के शनासाई को दिल है नैरंगी-ए-अय्याम पे हैराँ अब तक इतनी सी बात भी मालूम नहीं भाई को
Ahmad Mushtaq
0 likes
خون دل سے کشت غم کو سینچتا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی کاغذ پر لکیرے کھینچتا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج سے مجھ پر مکمل ہوں گیا تو دین فراق ہاں تصور ہے وہ ہے وہ بھی اب تجھ سے جدا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو دیار حسن ہے اونچی رہے تیری فصیل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں دروازہ محبت کا کھلا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شام تک کھینچے لیے پھرتے ہیں ا سے دنیا کے کام صبح تک فرش ندامت پر پڑا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں کبھی مجھ پر بھی ہوں جاتا ہے موسم کا اثر ہاں کسی دن شاکی آب و ہوا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اہل دنیا سے تعلق قطع ہوتا ہی نہیں بھول جانے پر بھی منزل عشق و توکل رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ
Ahmad Mushtaq
0 likes
ک ہاں کی گونج دل نا توان ہے وہ ہے وہ رہتی ہے کہ تھرتھری سی غضب جسم و جاں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے قدم قدم پہ وہی چشم و لب وہی گیسو تمام عمر نظر امتحاں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے مزہ تو یہ ہے کہ حقیقت خود تو ہے نئے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور ا سے کی یاد پرانی مکان ہے وہ ہے وہ رہتی ہے پتا تو فصل گل و لالہ کا نہیں معلوم سنا ہے قرب و جوار خزاں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنا وہم کروں لیکن اک شعا یقین کہی نواہ دل بد گماں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے ہزار جان خپاتا ر ہوں م گر پھروں بھی کمی سی کچھ مری طرز بیاں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے
Ahmad Mushtaq
1 likes
کھڑے ہیں دل ہے وہ ہے وہ جو برگ و ثمر لگائے ہوئے تمہارے ہاتھ کے ہیں یہ شجر لگائے ہوئے بے حد ادا سے ہوں جاناں اور ہے وہ ہے وہ بھی بیٹھا ہوں گئے دنوں کی کمر تراش سے کمر تراش لگائے ہوئے ابھی سپاہ ستم خیمہ زن ہے چار طرف ابھی پڑے رہو زنجیر در لگائے ہوئے ک ہاں ک ہاں لگ گئے عالم خیال ہے وہ ہے وہ ہم نظر کسی کے در و بام پر لگائے ہوئے حقیقت شب کو چیر کے سورج نکال بھی لائے ہم آج تک ہیں امید سحر لگائے ہوئے دلوں کی آگ جلاؤ کہ ایک عمر ہوئی صدا نال دود و شرر لگائے ہوئے
Ahmad Mushtaq
0 likes
یہ کون خواب ہے وہ ہے وہ چھو کر چلا گیا تو مری لب پکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مری لب یہ اور بات کسی کے لبوں تلک لگ گئے م گر قریب سے گزرے ہیں بارہا مری لب اب ا سے کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے حقیقت ج سے کے نام سے ہوتے لگ تھے جدا مری لب اب ایک عمر سے گفت و شنید بھی تو نہیں ہیں بے نصیب مری کان بے نوا مری لب یہ شاخسا لگ وہم و گمان تھا شاید کجا حقیقت ثمرہ باغ طلب کجا مری لب
Ahmad Mushtaq
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Mushtaq.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Mushtaq's ghazal.







