ک ہاں کی گونج دل نا توان ہے وہ ہے وہ رہتی ہے کہ تھرتھری سی غضب جسم و جاں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے قدم قدم پہ وہی چشم و لب وہی گیسو تمام عمر نظر امتحاں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے مزہ تو یہ ہے کہ حقیقت خود تو ہے نئے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور ا سے کی یاد پرانی مکان ہے وہ ہے وہ رہتی ہے پتا تو فصل گل و لالہ کا نہیں معلوم سنا ہے قرب و جوار خزاں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنا وہم کروں لیکن اک شعا یقین کہی نواہ دل بد گماں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے ہزار جان خپاتا ر ہوں م گر پھروں بھی کمی سی کچھ مری طرز بیاں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے
Related Ghazal
حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے
Umair Najmi
81 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
More from Ahmad Mushtaq
خون دل سے کشت غم کو سینچتا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی کاغذ پر لکیرے کھینچتا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج سے مجھ پر مکمل ہوں گیا تو دین فراق ہاں تصور ہے وہ ہے وہ بھی اب تجھ سے جدا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو دیار حسن ہے اونچی رہے تیری فصیل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں دروازہ محبت کا کھلا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شام تک کھینچے لیے پھرتے ہیں ا سے دنیا کے کام صبح تک فرش ندامت پر پڑا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں کبھی مجھ پر بھی ہوں جاتا ہے موسم کا اثر ہاں کسی دن شاکی آب و ہوا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اہل دنیا سے تعلق قطع ہوتا ہی نہیں بھول جانے پر بھی منزل عشق و توکل رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ
Ahmad Mushtaq
0 likes
اب لگ بہل سکےگا دل اب لگ دیے جلائیے عشق و ہوں سے ہیں سب فریب آپ سے کیا چھپائیے ا سے نے کہا کہ یاد ہیں رنگ طلوع عشق کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ چھوڑیے اب ا نہیں بھول جائیے کیسے نفی سے تھے مکان صاف تھا کتنا آ سماں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کہ حقیقت سماں آج ک ہاں سے لائیے کچھ تو سراغ مل سکے موسم درد ہجر کا سنگ جمال یار پر نقش کوئی بنائیے کوئی شرر نہیں بچا پچھلے بر سے کی راکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم نفساں شعلہ خو آگ نئی جلائیے
Ahmad Mushtaq
0 likes
یہ کون خواب ہے وہ ہے وہ چھو کر چلا گیا تو مری لب پکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مری لب یہ اور بات کسی کے لبوں تلک لگ گئے م گر قریب سے گزرے ہیں بارہا مری لب اب ا سے کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے حقیقت ج سے کے نام سے ہوتے لگ تھے جدا مری لب اب ایک عمر سے گفت و شنید بھی تو نہیں ہیں بے نصیب مری کان بے نوا مری لب یہ شاخسا لگ وہم و گمان تھا شاید کجا حقیقت ثمرہ باغ طلب کجا مری لب
Ahmad Mushtaq
1 likes
हाथ से नापता हूँ दर्द की गहराई को ये नया खेल मिला है मेरी तन्हाई को था जो सीने में चराग़-ए-दिल-पुर-ख़ूँ न रहा चाटिए बैठ के अब सब्र-ओ-शकेबाई को दिल-ए-अफ़सुर्दा किसी तरह बहलता ही नहीं क्या करें आप की इस हौसला-अफ़ज़ाई को ख़ैर बदनाम तो पहले भी बहुत थे लेकिन तुझ से मिलना था कि पर लग गए रुस्वाई को निगह-ए-नाज़ न मिलते हुए घबरा हम से हम मोहब्बत नहीं कहने के शनासाई को दिल है नैरंगी-ए-अय्याम पे हैराँ अब तक इतनी सी बात भी मालूम नहीं भाई को
Ahmad Mushtaq
0 likes
ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب اہل ہوں سے نا پسند رکھتے ہیں کہ ہم نوا محبت بلند رکھتے ہیں اسی لیے تو خفا ہیں پ سے مرگ کہ ہم نگاہ نرم و دل دردمند رکھتے ہیں اگرچہ دل وہی رجعت پسند ہے اپنا م گر زبان ترقی پسند رکھتے ہیں ہم ایسے عرش نشینوں سے حقیقت درخت اچھے جو آندھیوں ہے وہ ہے وہ بھی سر کو بلند رکھتے ہیں چلے ہوں دیکھنے مشتاق جن کو پچھلی رات حقیقت لوگ شام سے دروازہ بند رکھتے ہیں
Ahmad Mushtaq
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Mushtaq.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Mushtaq's ghazal.







