ghazalKuch Alfaaz

یہ کون خواب ہے وہ ہے وہ چھو کر چلا گیا تو مری لب پکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مری لب یہ اور بات کسی کے لبوں تلک لگ گئے م گر قریب سے گزرے ہیں بارہا مری لب اب ا سے کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے حقیقت ج سے کے نام سے ہوتے لگ تھے جدا مری لب اب ایک عمر سے گفت و شنید بھی تو نہیں ہیں بے نصیب مری کان بے نوا مری لب یہ شاخسا لگ وہم و گمان تھا شاید کجا حقیقت ثمرہ باغ طلب کجا مری لب

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

More from Ahmad Mushtaq

خون دل سے کشت غم کو سینچتا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی کاغذ پر لکیرے کھینچتا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج سے مجھ پر مکمل ہوں گیا تو دین فراق ہاں تصور ہے وہ ہے وہ بھی اب تجھ سے جدا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو دیار حسن ہے اونچی رہے تیری فصیل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں دروازہ محبت کا کھلا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شام تک کھینچے لیے پھرتے ہیں ا سے دنیا کے کام صبح تک فرش ندامت پر پڑا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں کبھی مجھ پر بھی ہوں جاتا ہے موسم کا اثر ہاں کسی دن شاکی آب و ہوا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اہل دنیا سے تعلق قطع ہوتا ہی نہیں بھول جانے پر بھی منزل عشق و توکل رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ

Ahmad Mushtaq

0 likes

हाथ से नापता हूँ दर्द की गहराई को ये नया खेल मिला है मेरी तन्हाई को था जो सीने में चराग़-ए-दिल-पुर-ख़ूँ न रहा चाटिए बैठ के अब सब्र-ओ-शकेबाई को दिल-ए-अफ़सुर्दा किसी तरह बहलता ही नहीं क्या करें आप की इस हौसला-अफ़ज़ाई को ख़ैर बदनाम तो पहले भी बहुत थे लेकिन तुझ से मिलना था कि पर लग गए रुस्वाई को निगह-ए-नाज़ न मिलते हुए घबरा हम से हम मोहब्बत नहीं कहने के शनासाई को दिल है नैरंगी-ए-अय्याम पे हैराँ अब तक इतनी सी बात भी मालूम नहीं भाई को

Ahmad Mushtaq

0 likes

ک ہاں کی گونج دل نا توان ہے وہ ہے وہ رہتی ہے کہ تھرتھری سی غضب جسم و جاں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے قدم قدم پہ وہی چشم و لب وہی گیسو تمام عمر نظر امتحاں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے مزہ تو یہ ہے کہ حقیقت خود تو ہے نئے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور ا سے کی یاد پرانی مکان ہے وہ ہے وہ رہتی ہے پتا تو فصل گل و لالہ کا نہیں معلوم سنا ہے قرب و جوار خزاں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنا وہم کروں لیکن اک شعا یقین کہی نواہ دل بد گماں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے ہزار جان خپاتا ر ہوں م گر پھروں بھی کمی سی کچھ مری طرز بیاں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے

Ahmad Mushtaq

1 likes

ک سے جھٹپٹے کے رنگ اجالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے ٹکڑے شفق کے دھوپ سے گالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے افسردگی کی لے بھی تری قہق ہوں ہے وہ ہے وہ تھی پت جھڑ کے سر بہار کے جھالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے اڑ کر ک ہاں ک ہاں سے پرندوں کے بندھو نادیدہ پانیوں کے خیالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے حسن تمام تھے تو کوئی دیکھتا لگ تھا جاناں درد بن کے دیکھنے والوں ہے وہ ہے وہ آ گئے کانٹے سمجھ کے گھا سے پہ چلتا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ قطرے تمام او سے کے چھالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے کچھ رت جگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہی کچھ خواب تھے جو مری خیالوں ہے وہ ہے وہ آ گئے

Ahmad Mushtaq

0 likes

خواب کے پھولوں کی تعبیریں کہانی ہوں گئیں خون ٹھنڈا پڑ گیا تو آنکھیں پرانی ہوں گئیں ج سے کا چہرہ تھا چمکتے موسموں کی آرزو ا سے کی تصویریں بھی اوراق خزانی ہوں گئیں دل بھر آیا کاغذ خالی کی صورت دیکھ کر جن کو لکھنا تھا حقیقت سب باتیں زبانی ہوں گئیں جو مقدر تھا اسے تو روکنا ب سے ہے وہ ہے وہ لگ تھا ان کا کیا کرتے جو باتیں ناگہانی ہوں گئیں رہ گیا تو مشتاق دل ہے وہ ہے وہ رنگ یاد رفتگاں پھول مہنگے ہوں گئے قبرےں پرانی ہوں گئیں

Ahmad Mushtaq

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ahmad Mushtaq.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ahmad Mushtaq's ghazal.