خون دل سے کشت غم کو سینچتا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی کاغذ پر لکیرے کھینچتا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج سے مجھ پر مکمل ہوں گیا تو دین فراق ہاں تصور ہے وہ ہے وہ بھی اب تجھ سے جدا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو دیار حسن ہے اونچی رہے تیری فصیل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں دروازہ محبت کا کھلا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شام تک کھینچے لیے پھرتے ہیں ا سے دنیا کے کام صبح تک فرش ندامت پر پڑا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں کبھی مجھ پر بھی ہوں جاتا ہے موسم کا اثر ہاں کسی دن شاکی آب و ہوا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اہل دنیا سے تعلق قطع ہوتا ہی نہیں بھول جانے پر بھی منزل عشق و توکل رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
More from Ahmad Mushtaq
کھڑے ہیں دل ہے وہ ہے وہ جو برگ و ثمر لگائے ہوئے تمہارے ہاتھ کے ہیں یہ شجر لگائے ہوئے بے حد ادا سے ہوں جاناں اور ہے وہ ہے وہ بھی بیٹھا ہوں گئے دنوں کی کمر تراش سے کمر تراش لگائے ہوئے ابھی سپاہ ستم خیمہ زن ہے چار طرف ابھی پڑے رہو زنجیر در لگائے ہوئے ک ہاں ک ہاں لگ گئے عالم خیال ہے وہ ہے وہ ہم نظر کسی کے در و بام پر لگائے ہوئے حقیقت شب کو چیر کے سورج نکال بھی لائے ہم آج تک ہیں امید سحر لگائے ہوئے دلوں کی آگ جلاؤ کہ ایک عمر ہوئی صدا نال دود و شرر لگائے ہوئے
Ahmad Mushtaq
0 likes
ک ہاں کی گونج دل نا توان ہے وہ ہے وہ رہتی ہے کہ تھرتھری سی غضب جسم و جاں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے قدم قدم پہ وہی چشم و لب وہی گیسو تمام عمر نظر امتحاں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے مزہ تو یہ ہے کہ حقیقت خود تو ہے نئے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور ا سے کی یاد پرانی مکان ہے وہ ہے وہ رہتی ہے پتا تو فصل گل و لالہ کا نہیں معلوم سنا ہے قرب و جوار خزاں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنا وہم کروں لیکن اک شعا یقین کہی نواہ دل بد گماں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے ہزار جان خپاتا ر ہوں م گر پھروں بھی کمی سی کچھ مری طرز بیاں ہے وہ ہے وہ رہتی ہے
Ahmad Mushtaq
1 likes
ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب اہل ہوں سے نا پسند رکھتے ہیں کہ ہم نوا محبت بلند رکھتے ہیں اسی لیے تو خفا ہیں پ سے مرگ کہ ہم نگاہ نرم و دل دردمند رکھتے ہیں اگرچہ دل وہی رجعت پسند ہے اپنا م گر زبان ترقی پسند رکھتے ہیں ہم ایسے عرش نشینوں سے حقیقت درخت اچھے جو آندھیوں ہے وہ ہے وہ بھی سر کو بلند رکھتے ہیں چلے ہوں دیکھنے مشتاق جن کو پچھلی رات حقیقت لوگ شام سے دروازہ بند رکھتے ہیں
Ahmad Mushtaq
0 likes
یہ کون خواب ہے وہ ہے وہ چھو کر چلا گیا تو مری لب پکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مری لب یہ اور بات کسی کے لبوں تلک لگ گئے م گر قریب سے گزرے ہیں بارہا مری لب اب ا سے کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہے حقیقت ج سے کے نام سے ہوتے لگ تھے جدا مری لب اب ایک عمر سے گفت و شنید بھی تو نہیں ہیں بے نصیب مری کان بے نوا مری لب یہ شاخسا لگ وہم و گمان تھا شاید کجا حقیقت ثمرہ باغ طلب کجا مری لب
Ahmad Mushtaq
1 likes
جاناں آئی ہوں تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوں تمہارے ساتھ بھی کچھ دور جا کر دیکھ لیتا ہوں ہوائیں جن کی اندھی کھڑ کیوں پر سر پٹکتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان کمروں ہے وہ ہے وہ پھروں شمعیں جلا کر دیکھ لیتا ہوں غضب کیا ا سے قرینے سے کوئی صورت نکل آئی تری باتوں کو خوابوں سے ملا کر دیکھ لیتا ہوں سحر دم کرچیاں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی ملتی ہیں تو بستر شیوم کر چادر ہٹا کر دیکھ لیتا ہوں بے حد دل کو دکھاتا ہے کبھی جب درد مہجوری تری یادوں کی جانب مسکرا کر دیکھ لیتا ہوں ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کر رنگ کچھ ہونٹوں سے کچھ آنکھوں سے کچھ دل سے گئے لمحوں کو تصویریں بنا کر دیکھ لیتا ہوں نہیں ہوں جاناں بھی حقیقت اب مجھ سے یاروں کیا چھپاوگے ہوا کی سمت کو مٹی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کر دیکھ لیتا ہوں سنا ہے اژدہا ہی علاج نا امی گرا ہے یہ نسخہ بھی کوئی دن آزما کر دیکھ لیتا ہوں محبت مر گئی مشتاق لیکن جاناں لگ مانوگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ افواہ بھی جاناں کو سنا کر دیکھ لیتا ہوں
Ahmad Mushtaq
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Mushtaq.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Mushtaq's ghazal.







